اصحاب احمد (جلد 9)

by Other Authors

Page 346 of 485

اصحاب احمد (جلد 9) — Page 346

۳۴۶ ۲۲- انگلستان کی فتح کی بنیاد جس کے آثار نمایاں ہورہے ہیں تین امور نے ۱۹۲۴ء میں حضرت امام جماعت احمد یہ خلیفہ المسی الثانی اور جماعت کی نیک نامی کو چار وانگ عالم میں چار چاند لگا دیئے تھے۔اول یہ کہ جماعت احمدیہ نے اپنے وطن میں دجال کی ایک جمعیت ( ہنود ) کو شکست پر شکست دے دی تھی۔اور اپنی مجاہدانہ سرفروشیوں والہانہ قربانیوں اور فدا کاریوں کا ایک نادر موقع پیش کر دیا تھا۔دوم اس سال موعو د سفر ذوالقرنین وقوع پذیر ہوا۔اور مذاہب عالم کے پہلوانوں کا بہ دلائل مقابلہ ہوا۔اور قلب مملکت دجال میں اسلام کے بطل جلیل نے من یحیی عن بيئة کا بین منظر پیش کیا۔اور نہ صرف یہ کہ اعداء اللہ کو شکست فاش دی بلکہ مستقل طور پر اعلائے کلمتہ اللہ کے لئے وہاں اللہ تعالیٰ کے گھر کی بنیا درکھ دی۔سوم اس سفر کے ایام میں سر زمین افغانستان میں حضرت مولوی نعمت اللہ خان صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا محض اور محض احمدیت کی خاطر ناحق اور مظلومانہ طور پر خون بہائے جانے سے اس امر کے ثبوت میں شور بر پا ہوگیا کہ مخالف دلائل کے میدان میں عاجز آ کر قتل و خون آشامی جیسے اوچھے ہتھیار پر اتر آتے ہیں اور جماعت کے افرادصبر و شکیب اور استقلال و استقامت کے قابل صد رشک مقام پر فائز ہیں۔گویا ان سه گونہ امور نے جو جماعت کے لئے ایک عظیم الشان سنگ میل کا حکم رکھتے تھے۔جماعت کے نہایت اہم امتیاز اور ناموری کا ببانگ دہل اعلان کر دیا تھا۔اسی سہ گونہ کامیابی کے متعلق حضرت اقدس کے ۹ جنوری ۱۹۰۴ء کے ذیل کے الہام میں تین الفاظ استعمال ہوئے تھے۔الحمد للہ یہ الہام اپنی پوری شان اور آب و تاب سے پورا ہوا۔الہام یہ ہے : فرمایا کہ نصرت و فتح و ظفر تا بست سال “ حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے ۱۹۲۴ء میں سفر انگلستان سے واپسی سے پہلے اپنے ایک مکتوب میں رقم ”میرے نزدیک انگلستان کی فتح کی بنیاد رکھ دی گئی ہے۔اور اپنے وقت پر اس کا اعلان زمین پر ہو جائے گا۔دشمن ہنسے گا اور کہے گا (کہ) یہ بے ثبوت دعوئی تو ہر ایک کر سکتا ہے۔مگر اس کو ہنسنے دو۔کیونکہ وہ اندھا ہے اور حقیقت کو نہیں دیکھ سکتا۔