اصحاب احمد (جلد 9) — Page 317
۳۱۷ پیدا نہیں کیا جاتا۔کس قدر حیرت ہے کہ سارے پنجاب میں سوائے احمدی جماعت کے اور کسی ایک فرقے کا بھی تبلیغی نظام موجود نہیں۔“ ایک شدید مخالف غیر مسلم انجمن کا ذکر کر کے لکھتے ہیں کہ تھوڑی دیر کے لئے اس کی وجہ سے مسلمان چوکنے ہوئے لیکن حسب معمول جلدی خواب گراں طاری ہو گیا۔مسلمانوں کے دیگر فرقوں میں تو کوئی جماعت تبلیغی اغراض کے لئے پیدا نہ ہوسکی۔ہاں ایک دل مسلمانوں کی غفلت سے مضطرب ہو کر اٹھا۔ایک مختصرسی جماعت اپنے گرد جمع کر کے اسلام کی نشر و اشاعت کیلئے بڑھا۔مرزا غلام احمد اپنی جماعت میں وہ۔۔۔۔۔اشاعتی تڑپ پیدا کر گیا جو نہ صرف مسلمانوں کے مختلف فرقوں کے لئے قابل تقلید ہے بلکہ دنیا کی تمام اشاعتی جماعتوں کے لئے نمونہ ہے۔۱۶۴ حضرت عرفانی صاحب جائزہ اور مدح و توصیف حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی مدیر الحکم نے اس علاقہ کی تبلیغ کے حالات میں بتایا ہے کہ وہاں کا قیام سخت کٹھن تھا۔سخت چلچلاتی دھوپ میں سفر کرنا ہوتا۔ماحول مخالف۔چھوت کے باعث پانی تک کا حصول مشکل۔کھانے کا انتظام خود کرنا ہوتا تھا اس لئے اکثر اوقات چنوں پر گزارہ کرنا پڑتا یا جو کے ستو پر یا زیادہ سے زیادہ چنے کی نمکین روٹی پر جسے پانی کے ساتھ کھا لیا جاتا۔حضرت عرفانی صاحب نے حضرت بھائی جی کے متعلق جو کچھ دیکھا ہدیہ قارئین کیا جاتا ہے: المی سلسلے اور ابتلاء اور تائیدات الہیہ لازم و ملزوم ہوتے ہیں جو مومنین کے کمالات مخفیہ کے اجاگر کرنے کا باعث بنتے ہیں۔ان احمدی مجاہدین کے اخلاص کا اندازہ تو اسی ایک امر سے ہو جاتا ہے کہ وہ اپنے ذاتی اخراجات پر میدان عمل میں گئے ہیں اور سفر اور غریب الوطنی کی تمام صعوبتوں کو انہوں نے بلند حوصلہ سے قبول کیا۔یہ ظاہر ہے کہ فضل الہی کے بغیر بڑے دل گردہ کے لوگ بھی حوصلہ ہار جاتے ہیں۔حضرت امام جماعت احمدیہ کی پکار پر احباب نے شرح صدر سے لبیک کہا۔پھر انہوں نے اپنے عمل سے ظاہر کر دیا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی خاطر نکلے ہیں۔وہ میدان عمل میں پہنچے تو انہیں غریب الوطنی کے علاوہ ایک اجنبی اور جذبات عداوت سے جلد متاثر ہو جانے والی قوم میں اپنے آپ کو محصور پایا۔دوسروں کی نظر