اصحاب احمد (جلد 9) — Page 311
۳۱۱ اٹھانے میں ذرا بھی غم ورنج نہیں۔میں صاف صاف کہتا ہوں کہ اگر یہ دونوں راہ خدا میں کام کرتے ہوئے مارے بھی جائیں تو میں ایک بھی آنسو نہیں گراؤں گا۔بلکہ اللہ تعالیٰ کا شکر کروں گا۔میرا تیسرا بیٹا بھی اگر خدمت اسلام کرتے مارا جائے۔اور اگر میرے دس بیٹے اور ہوں اور وہ بھی مارے جائیں تو بھی میں کوئی غم نہیں کروں گا۔میں جانتا ہوں کہ ریاء اور عجب ہلاکت کی باتیں ہیں۔آپ میرے لئے دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ میرے دل کوریا اور عجب سے جو ایمان کے لئے زہر ہیں ، بچائے اور مجھے اخلاص عطا کرے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر ایمان لانے سے ہمارے دل قوی ہو گئے ہیں۔اس پر حضور نے اور احباب نے جزاک اللہ کہا۔( مولوی ظل الرحمن صاحب کو اندرون ملک اور صوفی مطیع الرحمن صاحب ایم۔اے کو یو۔ایس امریکہ میں مخلصانہ تبلیغی خدمات بجالانے کی توفیق عطا ہوئی۔مؤلف ) حضور نے ۱۳ مارچ کو بیان فرمایا کہ میں گھر میں جتنی دفعہ مستورات کے پاس سے گذرا ہوں ان میں اسی بارے گفتگو ہوتی سنی ہے کہ ہم کس طرح اس کام میں حصہ لیں۔اور لجنہ اماءاللہ نے پوچھا ہے کہ ہم کس طرح اور کیا کام کر سکتی ہیں۔انفراداً بھی کئی عورتوں نے باوجود بعض معذوریوں کے اس علاقہ میں پہنچ کر تبلیغ کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔نیز فرمایا کہ بچوں میں بھی نہایت مسرت انگیز مثالیں موجود ہیں۔میرے پانچ سالہ بیٹے منور احمد نے اپنی اڑھائی سالہ چھوٹی بہن سے کہا کہ بی بی! میں تو غیر مسلموں کو مسلمان بنانے جانے والا ہوں۔تم بھی چلو گی۔اس نے کہا۔ہاں میں بھی چلوں گی۔منور احمد نے کہا۔اچھا پھر تیار ہو جاؤ۔( حضرت نواب محمد علی خاں صاحب کے بیٹے ) محمد احمد عمر بارہ سال نے اپنی والدہ (حضرت نواب مبارکہ بیگم ) سے کہا کہ تبلیغ اسلام کرنا بڑوں پر ہی فرض نہیں۔بلکہ ہمارا بھی فرض ہے اس لئے آپ جب جائیں مجھے بھی ساتھ لے چلیں۔نہ جائیں تو مجھے ضرور بھیج دیں۔۔حضور نے سکیم مکمل کر کے یکم اپریل ۱۹۲۳ء سے کام شروع کرنا تھا۔لیکن موقعہ کی نزاکت کے پیش نظر آپ نے ۱۲ مارچ کو بعد نماز فجر احباب کو بتایا کہ رات میں نے مخالف اخبارات کا مطالعہ کیا ہے۔جس سے معلوم ہوا کہ بہت سرعت کے ساتھ وہ ارتداد کے کام کو سرانجام دینا چاہتے ہیں۔ہم پہلے ہی ایک ماہ پیچھے کام شروع کریں گے۔اس لئے وہاں کی کامیابی کے لئے ضروری ہے کہ (حضرت ) چوہدری فتح محمد صاحب سیال جو آج وہاں جارہے ہیں ان کے ساتھ بعض افراد کو بھجوایا جائے تا کہ وہاں کے حالات کے مطابق وہ کام کرنا سیکھ لیں۔اور بعد میں جانے والوں کو دقت پیش نہ آئے۔