اصحاب احمد (جلد 9) — Page 310
۳۱۰ اس کے انسداد کی تفصیل تاریخ احمدیت جلد پنجم میں قابل مطالعہ ہے۔ہنود کی طرف سے ایک کروڑ مسلمانوں کو اسلام سے برگشتہ کرنے کی سکیم ابتداء میں تھی۔جسے وسیع کیا جانا تھا۔۲- حضرت خلیفہ امسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے اس بارے میں عامتہ المسلمین کو بھی مضامین کے ذریعہ آگاہ کیا اور جماعت احمدیہ کو بھی اور مجلس مشاورت ۱۹۲۳ء میں بالخصوص۔مثلاً آپ کے ملفوظات میں بیان ہوا ہے کہ نیم مسلم افراد کی تعداد ایک کروڑ ہے۔وہ کچھ کچھ مسلمانوں کی اور کچھ کچھ ہنود کی رسوم قبول کئے ہوئے ہیں اس وقت ڈیڑھ صد فدا کاروں کی ضرورت ہے۔ہر ایک تین ماہ کے لئے اپنے خرچ پر وہاں جائے اور وہ اپنے اہل وعیال کے اخراجات کا بھی ذمہ دار ہوگا۔وہاں کا کرایہ وغیرہ کا خرچ بھی وہ خود برداشت کریں گے۔معمولی خرچ ڈاک اور تبلیغ کا انہیں ملے گا۔ہر ایک کو اپنا کام خود کرنا پڑے گا۔اگر کھانا آپ پکانا پڑے گا تو پکائیں گے۔اگر جنگل میں سونا پڑے گا تو سوئیں گے۔جو اس محنت اور مشقت کو برداشت کرنے کے لئے تیار ہوں وہ آئیں۔ان کو اپنی عزت، اپنے خیالات قربان کرنے پڑیں گے۔ایسے لوگوں کی محنت باطل نہیں جائے گی۔ننگے پیروں چلیں گے۔جنگلوں میں سوئیں گے۔خدا ان کی اس محنت کو جو اخلاص سے کی جائے گی ضائع نہیں کرے گا۔اس طرح جنگلوں میں ننگے پیروں پھرنے سے ان کے پاؤں میں جو سختی پیدا ہو جائے گی وہ حشر کے دن جب پل صراط سے گذرنا ہو گا ان کے کام آئے گی۔مرنے کے بعد ان کو جو مقام ملے گا وہ راحت و آرام کا مقام ہوگا۔-٣ بے جا نہ ہوگا۔حضور کی تحریک کا جو اثر بڑوں اور بچوں تک پر ہوا اس کا قدرے اختصار سے یہاں ذکر کرنا ایک معمر بزرگ قاری نعیم الدین صاحب بنگالی نے ۱۰ار مارچ ۱۹۲۳ء کو جب حضور مجلس میں تشریف رکھتے تھے اجازت لے کر عرض کیا کہ اگر چہ میرے بیٹوں مولوی ظل الرحمن صاحب اور مطیع الرحمن صاحب متعلم بی۔اے کلاس نے مجھ سے نہیں کہا لیکن میں نے اندازہ کیا ہے کہ حضور نے اس علاقہ میں تبلیغ کرنے کے لئے کل جو وقف زندگی کی تحریک کی ہے۔اور جن حالات میں وہاں رہنے کی شرائط پیش کی گئی ہیں۔شاید میرے بیٹوں کے دل میں ہو کہ اگر وہ اپنے آپ کو پیش کریں گے تو مجھے ان کے بوڑھے باپ کو تکلیف ہوگی۔لیکن میں حضور کے سامنے خدا تعالیٰ کو گواہ کر کے کہتا ہوں کہ مجھے ان کے جانے اور تکالیف