اصحاب احمد (جلد 9) — Page 308
۳۰۸ تھا۔نہ ہمارے لئے۔حضور خوب ہنسے۔-۲ قافلہ لا ہور اسٹیشن سے میاں محمد شریف صاحب ای۔اے سی کے مکان پر پہنچا۔کھانے کے بعد ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رہا۔میں حضور کے قریب بیٹھا ہوا تھا۔مجھے کچھ اونگھ آنے لگ گئی۔کچھ دیر بعد حضور نے فرمایا۔ڈاکٹر صاحب! با تیں ختم ہو گئی ہیں۔جا گئیں اور وضو کریں۔اور یہ لطیفہ سنایا کہ ایک جگہ تبلیغ کے دورہ میں حافظ روشن علی صاحب کا رات کو لیکچر تھا۔جو نہی آپ نے تقریر شروع کی۔سامعین کے خراٹے اس زور سے شروع ہو گئے کہ حافظ صاحب تقریر بند کرنے پر مجبور ہو گئے۔مفتی محمد صادق صاحب صدر جلسہ کو بھی دیکھا کہ سو رہے ہیں۔تب حافظ صاحب نے زور سے کہا کہ لوگو! جاگ اٹھو۔تقریر بند ہوگئی ہے۔۳ - ۱۳ فروری کو حضور جمعیت بھائی عبدالرحیم صاحب۔بھائی عبدالرحمن صاحب مولوی رحیم بخش صاحب اور خاکسار ( یعنی ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب ) اور بعض مقامی بزرگان بعد ظہر سیر کے لئے تشریف لے گئے۔حضور مالیر کوٹلہ اور پھیر و چی بھی تشریف لے گئے۔واپسی کے تعلق میں مرقوم ہے:۔( حضور ) ۳ / مارچ کو دارالامان تشریف لے آئے۔احباب کی ایک کثیر تعداد قصبہ سے باہر قریباً میل ڈیڑھ میل تک استقبال کے لئے پہنچی ہوئی تھی۔" ۱۴۹ الحکم میں مراجعت کے بارے مرقوم ہے کہ حضور قبل از نماز عشاء واپس تشریف لے آئے۔احباب بعد مغرب، موضع بھینی تک استقبال کے لئے پہنچے۔اس سفر کا اظہار نہیں کیا گیا تھا۔خبر ہونے پر احباب کثیر تعداد میں دیوانہ وار حاضر ہو جاتے ہیں۔حضور کی عادت نہیں کہ جو احباب اخلاص وصدق سے آتے ہیں انہیں حاضری کا موقعہ نہ دیں۔اور پھر ملاقاتوں میں تقریروں کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے اور مصروفیت بڑھ جاتی ہے اور سفر کی غرض فوت ہو جاتی۔اسلئے اخبارات میں اعلان نہیں ہوا۔آپ نے مالیر کوٹلہ میں بارہ ہرن اور ایک نیل گائے کا شکار بھی کیا اور قادیان والوں کو حضور نہیں بھولے اور شکار کا حصہ بھیجا۔مالیر کوٹلہ سے براستہ گورداسپور پھیر و چی آکر آپ کا قیام رہا۔جہاں ڈاک آتی رہی اور اہم امور کے بارے آپ ہدایات قادیان بھیجتے رہے۔ایڈیٹر الحکم کو بھی تین دن کے لئے حاضری کی عزت نصیب ہوئی۔اور مولوی ذوالفقار علی خاں صاحب ناظر امور عامہ کو بھی شرف حاضری ملا