اصحاب احمد (جلد 9)

by Other Authors

Page 289 of 485

اصحاب احمد (جلد 9) — Page 289

۲۸۹ کے لئے ( حضرت ) مولوی شیر علی صاحب کو مقرر کرتا ہوں۔لوگ خلیفہ وقت کی بات بیعت میں ہونے کی وجہ سے مان لیتے ہیں۔لیکن امراء کی بات ماننے میں شرح صدر نہیں پاتے۔حضرت رسول کریم صلی اللہ وسلم کی پیروی میں میں کہتا ہوں کہ جس نے میرے مقرر کردہ امیر کی اطاعت کی اس نے میری اطاعت کی۔اور جس نے اس کی نافرمانی کی اس نے میری نافرمانی کی۔جماعت قادیان کو دوسروں کیلئے نمونہ بننا چاہئے۔جیسے تمہارے درجے بڑے ہیں ایسے ہی تمہاری ذمہ داریاں بھی بڑی ہیں۔ایک بد شکل کے چہرے پر مکھیاں بیٹھیں چنداں بری معلوم نہیں ہوتیں۔لیکن ایک حسین چہرہ پر ایک بھی مکھی ہو تو بری معلوم ہوتی ہے۔اس کے لئے برائی کا ایک چھوٹا سا دھبہ بھی بدنما ہے۔اگر یہاں کا ایک مدرس اور معزز ننگے پاؤں ننگے سر پھرے تو سب سمجھنے لگیں گے کہ دیوانہ ہوگیا ہے۔اس کا یہ عذر کہ دیہات میں کئی لوگ اس طرح ہوتے ہیں، نہیں سنا جائے گا۔حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بازار میں کھانے یا بحث کرنے کو بہت نا پسند فرماتے تھے۔بازار میں ایسی بحثیں بعض اوقات فساد کا موجب بن جاتی ہیں۔اس بات پر بھی عمل کرنا چاہئے۔قادیان کو اللہ تعالیٰ نے مقدس قرار دیا ہے۔اور اسے اسلام کی آئندہ ترقیات کے لئے مرکز بنایا ہے۔اس لئے قادیان کے لوگوں کی ہر حرکت۔ہر فعل اور ہر قول نمونہ ہونا چاہئے۔باہم محبت والفت ہو۔غمگساری ہو۔جزوی اختلافات کی وجہ سے مواخات میں فرق نہ آنا چاہئے۔خلیفہ وقت کا کام صرف مقامی نہیں رہا۔مجھے بہت زیادہ دماغی کام کرنا پڑتا ہے۔کثرت سے ڈاک آتی ہے۔باہر کی تمام جماعتوں کی باگ ڈور براہ راست مجھے اپنے ہاتھ میں رکھنی پڑتی ہے۔جماعت کی ترقی کی تجاویز سوچنے اور ڈاک کا جواب دیتے دلاتے اور ترجمہ کے کام میں ان گرمی کے دنوں میں میں رات ایک بجے تک کام کرتا رہا ہوں۔ترجمہ کے کام کی وجہ سے میرے دماغ پر اتنا بوجھ پڑا کہ میری ایسی حالت ہوگئی کہ میں ایک سطر بھی لکھنے سے رہ گیا اور بخار ہو گیا۔آرام کے لئے میں باہر جارہا ہوں۔میں اپنے فرائض سے پھر بھی غافل نہیں ہوں۔بعض رؤیاؤں کے مطابق سفر کے کچھ اور مصالح بھی ہیں جن کی تفصیل مجھے معلوم نہیں ہو سکی۔حضور نے مع خدام دوسرے روز ۳۰ راگست کو صبح ساڑھے آٹھ بجے ڈاکٹر عبداللہ صاحب کے مکان کے آگے سے گذر کر مزار حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر دعا کی۔پھر مہمان خانہ کے راستے بیرون قصبہ پیدل تشریف لے گئے۔میاں معراج الدین صاحب کے بھٹہ سے آگے گذر کر سواریاں موجود