اصحاب احمد (جلد 9) — Page 282
۲۸۲ (سالانہ رپورٹ صدر انجمن احمد یہ بابت ۱۸- ۱۹۱۷ء - صفحہ ۹) بعد میں اس مذہبی لیڈر کی حالت بہت تبدیل ہوئی۔کشمیر کمیٹی کے قیام میں دو لیڈر جنہوں نے اصرار کر کے حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کا نام صدارت کے لئے تجویز کیا ایک وہ تھے۔۱۹۳۸ء کے حضور کے سیر روحانی والے سفر میں واپسی پر حضور دہلی پہنچے تو ان صاحب نے مع دیگر لیڈران کے حضور کی امامت میں اپنی جائے قیام میں نماز ادا کی۔جس کے بعد دعوت کھائی۔اس دعوت میں خاکسار مؤلف ( پرائیوٹ سیکرٹری ) نے بھی شرکت کی تھی۔۱۹۵۲ء میں خاکسار نے ملاقات کی تو محبت سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی درگاہ شریف میں آمد کا ذکر کیا۔نیز بتایا کہ احمدیہ جماعت کے خلاف جو فساد پاکستان میں ہوا ہے ہیں۔مجھے ان سے صدمہ ہے اور پاکستان سے آنے والے ملاقاتیوں کو یہ بات میں سمجھاتا ہوں۔میں بہت بیمار ہوں اور مجھے رہ رہ کر افسوس ہوتا ہے کہ جماعت را ولپنڈی میری حضرت مرزا محمود احمد ( خلفیہ ثانی ) سے ملاقات ربوہ لے جا کرانے پر تیار تھے۔لیکن میں نہ جا سکا۔ے۔اخبار لائٹ لاہور کی طرف سے الفضل کے ایڈیٹر خواجہ غلام نبی صاحب اور پرنٹر محترم بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی پر ازالہ حیثیت عرفی کا مقدمہ دائر ہوا۔مقدمہ کی پیروی جناب چودھری محمد ظفر اللہ خاں صاحب نے کی ۱۹۶۵ء کی ہندو پاک جنگ کے بعد ایڈیٹر اخبار ” لائٹ“ نے حضرت خلیفۃ المسیح الثالث صاحب کے ہاتھ پر بیعت خلافت کر لی تھی۔فالحمد للہ ہند و مسلم اتحاد اور مسلم ملی مفاد دسمبر ۱۹۲۶ء میں ایک مشہور ہندو مذہبی رہنما کے ایک مسلمان کے ہاتھوں ہلاک ہو جانے پر حضرت خلیفتہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے مسلمانوں پر واضح کیا کہ یہ طریق اسلامی تعلیم کے خلاف ہے اور اس سے یہ خیال پیدا ہوا ہے کہ اسلام تلوار کا محتاج ہے۔اس واقعہ کے نتیجہ میں ہندو شدھی سبھا کی سرگرمیاں تیز ہوگئیں۔حضور کی دور بین نگاہ نے جو کچھ بھانپا اور دفاع اسلام کے لئے یقین کرتے ہوئے بیان فرمایا وہ کچھ عرصہ بعد ویسے ہی رونما ہوا کہ ”ہندوستان میں سپین کی طرح کا مشکل وقت اسلام کے لئے آیا ہوا ہے۔“ حضور نے ہمیشہ ہند و مسلم اتحاد کو اہمیت دی۔اس وقت بھی وائسرائے ہند لارڈ ارون کو ایک مفصل مکتوب میں اس بارے میں تجاویز پیش کیں اور لاہور میں سر محمد شفیع کی صدارت میں ایک تقریر میں اس کے متعلق نیز اس بارے میں کہ مسلمان کیا طریق اپنا ئیں، مفید و قابل عمل باتیں بیان کیں۔۴ رمئی ۱۹۲۷ء کو مسلمان ، لاہور کی ایک مسجد سے نماز پڑھ کر نکل رہے تھے کہ ان پر حملہ ہوا۔دوسرے روز ان سانحہ والے