اصحاب احمد (جلد 9) — Page 276
۲۷۶ - قیام خلافت ثانیہ کے ایک ماہ کے اندر ۱۲ اپریل ۱۹۱۴ء کو قادیان میں جماعت کے نمائندگان کی شوری بلائی گئی۔بھائی بھی بھی ان نمائندگان میں شامل تھے۔اس شوری میں حضرت خلیفتہ اسیح الثانی نے خلفاء کے کام کی تفصیل بیان کی۔حضرت خلیفتہ المسیح الاول کی وصیت کا ذکر کیا۔اور معترضین کے اعتراضات کے جواب دیئے۔اس فیصلہ کے متفقہ فیصلہ کے مطابق صدر انجمن احمدیہ کے ایک قاعدہ کی ترمیم مجلس معتمدین نے ذیل کے الفاظ کے ذریعہ کی : ہر ایک معاملہ میں مجلس معتقدین اور اسکی ماتحت مجلس یا مجالس اورصدرا انجمن احمد یہ اور اس کی کل شاخہائے کے لئے حضرت خلیفتہ المسیح مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفہ ثانی کا حکم قطعی اور ناطق ہوگا۔“* اس شوری سے قبل حضرت نواب محمد علی خاں صاحب نے حضرت بھائی جی کو احمد ہر جماعتوں میں بھجوایا تا بعض برسراقتدار ممبران صدر انجمن احمدیہ کی پیدا کر دہ باتوں کے متعلق حضرت خلیفہ المسیح الثانی کی پیش کردہ تجاویز پیش کریں اور قاعدہ کی مذکورہ بالا ترمیم کے بارے میں جماعتوں کے صدر صاحبان کی آراء مرکز میں بھجوائیں۔چنانچہ بھائی جی نے پشاور تک کی تمام جماعتوں میں پہنچ کر اس خدمت کو بطریق احسن انجام دیا۔اور واپس آکر جماعتوں کے اخلاص اور خلافت سے وابستگی کے حالات بھی سنائے۔-2 خلافت اور تائید خلافت ثانیہ کے بارے میں حضرت بھائی جی نے متعدد مضامین رقم فرمائے۔بھائی جی کا ایک مفصل مضمون ” خلافت ثانیہ کی صداقت و عظمت‘ ( اور ) ربع صدی پیشتر کا ایک غیر مطبوعہ تاریخی ورق کے دوہرے عنوانات سے الحکم جلد ۴۲ نمبر ۲۲،۲۱ بابت ۱٫۱۴،۷ اکتوبر ۱۹۳۹ء میں شائع شدہ مضمون میں لولاک لما خلقت الافلاک کے بارے عجیب تو ارد کا ذکر ہے۔حضرت مولانا غلام رسول صاحب را جیکی کی صحت کی کمزوری کی وجہ سے ان کے لئے دعا کی خاطر حضرت مولوی * عبد الرحمن صاحب کی زیر صدارت یہ حصہ سنایا گیا۔رپورٹ بدر ۲۷ / جولائی ۱۹۵۳ء میں درج ہے۔الحکم جلد ۱۸ نمبر ۹ - ۱۰ بابت ۲۱ را پریل ۱۹۱۴ء والفضل جلد نمبر ۴۵ ( ب ) بابت ۲۰ را پریل (صفحه ۱۶،۱۵) میں مندرجہ قریباً دوصد نمائندگان کی فہرست میں بھائی جی کا نام نامی نویں نمبر پر ہے۔یہ اجلاس مسجد مبارک میں زیر صدارت جناب مولوی محمد احسن ہوا تھا۔اس روز کی حضور کی تقریر ” منصب خلافت“ کے نام سے طبع ہوئی اس روز کی کارروائی کی روئداد اور جماعت احمدیہ کے اس وقت کے جملہ مبلغین کی مساعی کا ذکر بھائی جی کی طرف سے اس کتاب کے سر ورق میں تین صفحات میں درج ہے۔