اصحاب احمد (جلد 9)

by Other Authors

Page 275 of 485

اصحاب احمد (جلد 9) — Page 275

۲۷۵ مختصر تقریر فرمائی۔جنازہ پڑھایا۔تدفین ہوئی۔جو احباب حاضر نہ تھے وہ بیعت کر لیں۔تقریر اور الفاظ بیعت بذریعہ اخبارات شائع کئے جائیں گے۔-۵ ۱۰۲ ایک بڑے سائز کا اشتہار بہ عنوان ” شرائط بیعت ( حضرت نواب ) محمد علی خاں“ (صاحب) اور ( حضرت مولوی ) شیر علی (صاحب) کی طرف سے ۲۱ / مارچ ۱۹۱۴ء کو غیر مبائعین کی ناجائز باتوں کی تردید میں شائع کیا گیا۔ایک غلط اور نا جائز بات یہ تھی جس کی تردید میں الفاظ بیعت بھی درج کئے گئے کہ شرائط بیعت میں ایک شرط یہ ہے کہ فلاں شخص کو منافق سمجھا جائے۔اس اشتہار کی پشت پر افراد خاندان حضرت اقدس۔علماء۔گریجویٹس۔سرکاری عہدہ داران۔ایڈیٹر ان۔صدر صاحبان وسیکرٹری صاحبان اور معززین و تجار کی طرف سے ( نمبر ۳ بالا کی طرح) یہ اعلان درج ہے کہ حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب خلیفہ منتخب ہوئے وغیرہ وغیرہ ” معززین و تجار“ کی فہرست میں شیخ عبد الرحمن صاحب" کا اسم گرامی بھی درج ہے۔(اشتہار کالم ۵) ایک عجیب توارد کا ذکر کیا جاتا ہے جو ہر قسم کے تصنع اور تخیل کے اثر سے بکلی پاک ہے۔آغاز خلافت ثانیہ میں حضرت خلیفہ اسیح الثانی دار اسے میں حضرت سیدہ ام ناصر صاحبہ والے حصہ میں ایک کمرہ میں ڈاک ملاحظہ فرماتے تھے اور احباب حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کے مردانہ کی طرف سے وہاں آ جاتے تھے۔اس وقت وہاں سے آنے کا انتظام تھا۔بعد میں نہیں رہا۔( یہ جگہ ایک دفعہ حضرت مولوی عبدالرحمن صاحب فاضل امیر جماعت قادیان نے مردانہ میں خاکسار مؤلف کو دکھائی تھی ) ایک روز اس بالا خانہ میں حضور اس روز کی ڈاک ملاحظہ فرما رہے تھے۔اس وقت غیر مبائعین کی کارروائیاں اپنے عروج پر تھیں۔حضور نے حضرت مولانا غلام رسول صاحب را جیکی کا موصولہ خط بعد ملاحظہ حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی کو پڑھنے کے لئے دیا۔جس میں مرقوم تھا کہ مجھے حضور کی ارفع شان کے متعلق لولاک لما خلقت الافلاک “الہام ہوا ہے۔یہ بیان کر کے حضرت بھائی جی نے بتایا کہ حضرت راجیکی صاحب کا مکتوب پڑھتے ہی حضرت عرفانی صاحب نے میرا وہ رقعہ جھپٹار مار کر چھین کر حضور کی خدمت میں پیش کر دیا جو میں نے وہاں بیٹھے لکھا تھا اور عرفانی صاحب نے دیکھ لیا تھا۔میں نے لکھا تھا کہ آج رات مجھے پر رعب وشوکت اور پر جلال و ہیبت آواز میں لولاک لما خلقت الافلاک “ کا الہام ہوا ہے۔جس میں حضور کی طرف اشارہ تھا اور نظارہ دکھایا گیا تھا کہ تشنت وافتراق حضور کی برکت سے تغیر پذیر ہو کر کم ہو جائے گا اور مغلوب ہو جائے گا۔