اصحاب احمد (جلد 9)

by Other Authors

Page 273 of 485

اصحاب احمد (جلد 9) — Page 273

۲۷۳ حضرت صاحبزادہ صاحب نے اپنی تقریر میں دعا سے مدد کرنے کی تاکید کی کہ یہی کامیابی کی کلید ہے۔اور فرمایا کہ میرے دل میں مدت سے خواہش تھی کہ مکہ معظمہ جو خدا کے بڑے پیاروں کی جگہ ہے وہاں جا کر دعائیں کروں کہ مسلمان اس وقت بہت ذلیل ہور ہے ہیں۔اے خدا اس قوم نے تجھ کو چھوڑا۔نہ دین رہا نہ دنیا۔ان کی اصلاح کی کوئی تدبیر کارگر نہیں ہوتی۔اس مقام پر تو نے حضرت ابراہیم کو وعدہ دیا تھا اور ان کی دعا کو شرف قبولیت بخشا۔اور حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاؤں کو قبول کیا تھا۔آج پھر وہی دعائیں ہمارے لئے قبول فرما اور اہل اسلام کو عزت اور ترقی عطا کر۔جب ہماری دعا ئیں ایک حد تک پہنچیں گی تو وہ قبول ہوں گی۔دشمن زبردست ہے اور ہم کمزور۔مگر ہمارا محافظ بھی بڑ از بردست ہے۔حضرت خلیفہ اول نے ایک مختصر تقریر میں فرمایا کہ آجکل مسلمانوں نے خدا تعالیٰ کو چھوڑا ہے۔ان میں اصلاح نہیں۔خدا تعالیٰ نے بھی انہیں چھوڑ دیا ہے۔اس جلسہ کا اصل مدعا یہ ہے کہ دعا بہت کی جائے۔۔۔پھر اجتماعی دعا ہوئی۔قادیان سے بہت سے احباب بٹالہ اور کچھ لاہور تک اور حضرت شیخ عبدالرحمن صاحب قادیانی اور ( حضرت شیخ عبدالعزیز صاحب ( نومسلم ) بمبئی تک مشایعت کے لئے گئے۔حضرت نانا جان میر ناصر نواب صاحب بھی وہاں پہنچ کر شریک سفر ہو گئے۔حضرت صاحبزادہ صاحب مع حضرت نانا جان ۶ / جنوری ۱۹۱۳ءکو بمبئی واپس پہنچے آپ کے استقبال کے لئے حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب مع محترم بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی بمبئی پہنچے۔۱۲؍ جنوری کو لاہور وارد ہونے پر چھ صد کے قریب احباب لاہور نے بڑے اخلاص سے استقبال کیا۔وہاں حضرت مفتی محمد صادق صاحب اور محترم شیخ محمود احمد صاحب (عرفانی) بھی پیشوائی کے لئے پہنچے۔حضرت صاحبزادہ صاحب نے وہاں اتحاد واتفاق کے بارے تقریر فرمائی۔احباب امرتسر کے اصرار پر آپ وہاں اترے اور تقریر کی۔پھر دو بجے بعد دو پہر آپ بٹالہ پہنچے۔پختہ اطلاع آنے پر حضرت اُم المؤمنین دوسری بار اپنے فرزند سے ملاقات کے لئے بٹالہ تشریف لے گئیں۔حضرت خلیفہ اول بے حد خوش تھے۔آپ کے ارشاد پر دونوں مدارس میں تعطیل کی گئی۔طلبہ اور احباب نہر تک استقبال کے لئے پہنچے۔حضرت خلیفہ اول با وجود ضعف کے بیرونِ قصبہ دور تک تشریف لے گئے۔آپ کے ارشاد پر احباب نے مسجد نور میں صلوٰۃ الحاجتہ ادا کر کے حضرت صاحبزادہ صاحب کے لئے