اصحاب احمد (جلد 9) — Page 270
۲۷۰ روانگی کا انتظام کرے۔اس انتظام سے مہمانوں کو بہت آرام ملا۔مہمانوں کی متوقع کثرت کے مقابل مکانات کی بھاری قلت کے باعث ڈیڑھ سوفٹ لمبا اور ہمیں فٹ چوڑا ایک نیا چھپر تیار کرانا تجویز ہوا۔جس کا اہتمام حافظ عبدالرحیم صاحب اور شیخ عبدالرحمن قادیانی نے جس قابلیت اور محنت سے بہت ہی تھوڑے عرصہ میں کیا وہ نو جوانوں کے لئے قابل تقلید ہے۔ان دونوں نو جوانوں کے سپر د مکانات کا انتظام تھا۔جس دوڑ دھوپ سے انہیں کام کرنا پڑا وہ انہی کا حصہ تھا۔جلسہ کی حاضری دو تین ہزار کے درمیان تھی۔ضلع گورداسپور اور اردگرد کے دیہات کے لوگ اس کے علاوہ تھے۔- مناظره منصوری ١٩٩١ منصوری پہاڑی بستی میں پانچ چھ افراد احمدی تھے۔منشی عزیز الرحمن صاحب کی تبلیغ سے ایک مسلم تاجر کے دو بیٹے سلسلہ احمدیہ سے منسلک ہو گئے۔والد نے ان بیٹوں کو ہر طرح سے تنگ کیا۔دکان سے نکال دیا۔وہ وہاں سے بھاگ کر اپنے وطن سہار نیپور جاپہنچے۔والد نے وہاں نصف شب کو پہنچ کر لاٹھی وغیرہ سے پٹائی کی اور چھری دکھائی۔ان کے استقامت دکھلانے پر والد نے کہا کہ میری ساری جائیداد لے لو۔جس طرح چاہو عیش و عشرت کرو لیکن احمدی نہ بنو۔گویا فسق و فجور کی ان کو اجازت دے دی لیکن وہ قادیان چلے آئے۔فریقین میں مباحثہ ہونا نشی عزیز الرحمن صاحب نے نومبر ۱۹۰۹ء میں طے کیا۔حضرت خلیفہ المسح اول سے عرض کیا گیا۔آپ خاموش رہے۔توجہ اور دُعا اور استخارہ پر حضور نے دیکھا کہ ناصر شاہ بلاتا ہے کہ میرے مکان کے اندر آ جاؤ۔اور بھی کئی دوستوں نے مبشرات دیکھیں۔جناب مولوی محمد علی صاحب کو امیر قافلہ بنا کر حضرت مفتی محمد صادق صاحب اور حضرت حافظ روشن علی صاحب کو روانگی کی ہدایت فرمائی۔بدر کی رپورٹ میں درج ہے کہ حضرت سید عزیز الرحمن صاحب مہاراجہ کپورتھلہ کے ملازم ہیں اور حضرت مولوی عبد الرحیم صاحب نیر اور حضرت قاضی محمد عبد اللہ صاحب بھٹی کے خسر ہیں۔محلہ دار الفضل قادیان میں سید صاحب حضرت میاں فضل محمد صاحب ہر سیاں والوں کے ہمسایہ تھے یعنی سید صاحب کا مکان میاں صاحب کے مکان کے متصل جانب شمال نور ہسپتال سے حضرت نواب محمد علی خان کی کوٹھی دار الاسلام کو جانے والی سڑک پر واقع تھا۔منصوری سے اس خاندان کے ایک فرد کے سوا باقی سب نہایت مخلص اور سلسلہ کے وفادار ثابت ہوئے۔