اصحاب احمد (جلد 9) — Page 260
۲۶۰ - حضرت مسیح موعود کی آخری باتیں“ کے عنوان کے تحت بعض باتیں الحکم میں شائع ہوئی تھیں۔ان میں سے آخری تحریر کے بارے میں ” توضیح و اصلاح حضرت بھائی عبدالرحمن صاحب نے بھجوائی جو اس وقت محمود آباداسٹیٹ۔ڈاکخانہ نبی سر (سندھ) میں تھے۔اسے درج کرتے ہوئے حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی ایڈیٹر الحکم نے تحریر کیا ہے کہ آخری تحریر کا الحکم میں ایسے طور پر ذکر ہوا ہے کہ جس سے تاریخی غلط فہمی پیدا ہوسکتی ہے۔”حضرت بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی نے (جو) حضرت اقدس علیہ السلام کے سفر لاہور میں الحکم کے نمائندہ خصوصی کی حیثیت سے حاضر خدمت تھے۔آخری تحریر کے بارے بغرض تو ضیح تحریر کیا ہے۔توضیح و اصلاح آخری تحریر کے ماتحت مندرجہ سطور سے ) معلوم ہوتا ہے کہ نہ پڑھی جانے والی تحریر ۲۵ رمئی کو لکھی گئی تھی۔حالانکہ وہ واقعہ ۲۶ مئی ۱۹۰۸ء کی صبح کا ہے۔اور حضور کے وصال سے ایک آدھ گھنٹہ قبل کا ہے۔ان سطور سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ گویا حضور ۲۵ رمئی کی شام کو بیمار بھی تھے۔حالانکہ اصل (بات) یہ ہے کہ سیدنا حضرت مسیح پاک علیہ الصلوۃ والسلام کو وہ تکلیف جس سے حضور کا وصال ہوا ۲۵ رمئی ( کو ) بعد نماز عشاء ہوئی تھی۔یہ درست ہے کہ حضور نے حالت مرض میں قلم دوات منگا کر کچھ رقم فرمایا۔مگر وہ ( واقعہ ) ۲۶ مئی ۱۹۰۸ء بعد نماز فجر بلکہ وصال سے ایک آدھ گھنٹہ قبل کا ہے۔د میں بھی چونکہ حاضر خدمت تھا اور تکلیف کی اتبداء ہی میں حضور نے از راہ کرم و ذرہ نوازی حضرت حافظ حامد علی صاحب کے ذریعہ یاد فرما کر خدمت کا موقعہ دیا۔لہذا جہاں تک میری یادداشت کام کرتی ہے ۸۷ اور حافظہ کام کرتا ہے مجھے یہی یاد ہے۔حضرت اقدس کے وصال کے ایک روز پہلے کی تکمیل کردہ تصنیف ”پیغام صلح ۲۱ جون ^^ ۱۹۰۸ء کو لاہور میں سنائی گئی۔ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الاول بابت ۱۰ جون ۱۹۰۸ء۔11- -۱۲ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے 9 ستمبر ۱۹۰۱ء کو اپنے اشتہار مفید الا خیار میں توجہ دلائی تھی کہ جماعت احمد یہ میں کم از کم سو افراد ایسے اہل فضل و کمال ہوں کہ سلسلہ احمدیہ کے متعلق اللہ تعالیٰ کے ظاہر کردہ نشانات اور دلائل قویہ کا ان کو علم ہو اور مخالفین پر ہر ایک مجلس میں بوجہ احسن اتمام حجت کر سکیں اور ان