اصحاب احمد (جلد 9) — Page 235
۲۳۵ دنیا کے ہر غم کا علاج اور ہر رنج کی دوا گویا سید نا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا دیدار صحبت اور مجلس تھی۔ایسا معلوم ہوا کرتا تھا کہ حضور کا وجود باجود گویا امن و عافیت کا ایک حصار ہے جس کی پناہ لینے والا ہر خوف سے بے خوف اور ہر بلا کی زد سے محفوظ ہو گیا۔حضور کی ذات والا صفات کے فیوض و برکات کی ادنی سی مثال موجودہ روشنی اور تہذیب و تمدن کی مناسبت سے یہ بھی دی جاسکتی ہے کہ حضور پُر نور کی مثال ایک عظیم ترین پاور ہاؤس یا خزانہ نور کی تھی جس کے سونچ کے آف سے اون ہوتے ہی ساری ظلمتیں کا فور ہو کر نور کا ظہور ہو جایا کرتا تھا اور یہ ساری کیفیات ، ساری تاثیرات اور سارے ثمرات حضور کے اسی وصف ، اسی خلق اور اسی جذ بہ کا نتیجہ وشمرہ تھے۔جو حضور کے قلب سلیم وحلیم میں خالق فطرت کی طرف سے حضور کو ودیعت کیا جا چکا تھا اور حضور نہایت فیاضی اور فراخدلی سے ابر بہار کی مانند ہمیشہ اس کا استعمال فرماتے اور فیض جاری رکھا کرتے تھے۔چنانچہ حضور کی صحبت و مجلس کا یہ اثر ، مرہ اور نتیجہ اسی خلق عظیم کی لطیف روحانی برقی لہروں اور شعاعوں کا اثر تھا جو حضور کے دل سے نکل کر صحبت پانے والوں اور ہم نشینوں کو متاثر کیا کرتی تھیں۔یہ تو تھا مخفی ، غیر مرئی اور نا معلوم اثر حضور کے اس خلق و جذبہ کا جو حضور کے دل کی گہرائیوں میں ایک حسن پنہاں اور لعل بدخشاں کی طرح حضور کی کان قلب میں موجود تھا۔ظاہر میں اس کا کیا اثر تھا، عملاً حضور اس قوت سے کتنا کام لیتے تھے۔اور خلق خدا سے کیونکر پیش آیا کرتے تھے ، افسوس میں عاجز ہوں اس کے بیان سے اور قاصر ہوں اس کے اظہار سے۔گنگ محض ہوں طاقت گویا ئی نہیں کہ اس کے عشر عشیر کا بھی بیان کر سکوں کوتاہ قلم بلکہ کوتاہ دست ہوں اتنا کہ اس حقیقت و کیفیت کا شائبہ بھی سطح قرطاس پر نہیں لا سکتا۔دلداری و دلجوئی کرنے میں حضور ما در مہربان سے کہیں زیادہ مہربان اور شفیق سے شفیق باپ سے کہیں بڑھ کر شفیق تھے۔خلق خدا کی ایسی دلداری فرماتے اور اتنی دلجوئی کیا کرتے تھے کہ کیا کوئی ماں باپ کسی عزیز ترین اکلوتے کی بھی کر سکیں گے۔دنیا میں ایسا کون ہے جو دوسروں کا غم اٹھائے۔بیگانوں کا درد بانٹے اور ان کے مصائب و آلام اپنے گلے ڈال لے؟ مگر میرے آقا سچ سچ ایسا ہی کیا کرتے تھے۔غمزدوں کے غم اٹھاتے رنجوروں کے رنج خود سہتے اپنی جان پر بوجھ ڈالتے اور ان کو رنج و غم سے آزاد کر دیا کرتے تھے۔کتنا ہی کوئی مفلوک الحال اور در دو غم سے نڈھال ہوتا حضور اس طرح دلداری فرماتے ، ایسی دلجوئی کرتے کہ وہ رنج و غم کو بھول جاتا۔غریب سے غریب اور نا تواں وکمزور بھی حضرت کو اپنا ہمدردہ غم خوار اور بہی خواہ سمجھ کر حاضر ہوتا بے تکلف عرض حال کرتا اور حضور کے لطف وکرم سے حصہ پاتا۔کتنی طویل کہانی،