اصحاب احمد (جلد 9)

by Other Authors

Page 10 of 485

اصحاب احمد (جلد 9) — Page 10

1۔کبھی رکوع کرتے ، اور کبھی سجدات، تو یہ نظارہ آپ کے لئے نہایت ہی دلکش اور روح پرور ہوا کرتا تھا۔آپ عید کے روز عیدگاہ کی چار دیواری پر جا بیٹھتے اور جمعہ کو جمعہ پڑھنے والوں کی حرکات کو محبت بھری نگاہوں سے جامع مسجد کے صحن یا چار دیواری سے جھانک جھانک کر اپنی روحانی ترقی کے سامان اور قلبی مسرت حاصل کرتے۔اور ان باتوں کے لئے کوئی بھی ظاہری محرک نہ تھا۔صرف آپ کے دل کی خواہش اور روحانی تحریک ہی محرک ہوتی تھی۔آپ کو بجائے بت گروں اور بت پرستوں کے مؤحدوں، خدا پرستوں اور بت شکنوں سے محبت تھی اور بجائے بت خانوں اور بت کدوں کے مساجد اور عید گاہیں آپ کی روحانی دلچسپی کا موجب تھیں۔گھنٹے اور گھڑیال جومنا در و بتکدوں سے صبح و مسا بجتے اب وہ آپ کی توجہ کو پھیرنے سے قاصر تھے مگر آپ کے تیز چلتے ہوئے قدم دوڑتے ہوئے پاؤں اور بھاگتا ہوا جسم رکتا اور قدم لرزہ کھا جاتے تو اس خدائے برتر کے نام سے شروع ہونے والی آواز پر جو کہ اللہ اکبر اللہ اکبر سے شروع ہوا کرتی تھی مسجد کے صحن یا مینار سے۔آپ جہاں بھی ہوتے جدھر بھی جارہے ہوتے، جس حال میں بھی ہوا کرتے اذان کے پہلے لفظ پر ہی کھڑے ہو جایا کرتے تھے اور نہ چلتے اور نہ منہ پھیر تے۔جب تک کہ وہ مقدس آواز پوری ختم نہ ہو جاتی۔آپ اذان کے کلمات سے بھی نا آشنا اور اس کے معانی و مقاصد سے بھی ناواقف تھے مگر دل میں اس طریق پکار، طرز نداء اور نام خدا کی ایک ہیبت ، ایک ادب ، اور ایک قسم کا جوش و نشہ آ جایا کرتا کہ بغیر کسی گذرنے والے ہند وطعنہ زن کے طعنہ کی پروا کرنے کے آپ مقام ادب پر کھڑے ہو جاتے اور اس میں آپ کو ایک ایسا لطف ، لذت اور سرور ملتا تھا کہ جس کا بیان کرنا ممکن نہیں۔آپ فرماتے ہیں کہ گو یہ اس وقت کے مسلمانوں کی تقلید ہی تھی مگر حق یہ ہے کہ مجھے اس راہ سے بھاری برکت ملی۔مسلمانوں کا اس وقت یہ حال تھا کہ ہیڈ ماسٹر سے لے کر ہم جماعت مسلمان لڑکوں حتی کہ بعض آپ کے خاص دوستوں تک نے بھولے سے بھی آپ کو کوئی کلمہ خیر کہنے کی توفیق نہ پائی۔نہ تبلیغ کی۔حالانکہ آپ دن رات ان کے ساتھ رہتے تھے۔بعض اوقات آپ خود بازار سے نماز کی کتاب خرید کر تنہائی میں بعض دوستوں کے گھر پر پہنچے اور چاہا کہ وہ آپ کو نماز کا سبق پڑھا ئیں۔مگر انہوں نے کبھی کوئی عذر کر کے ٹال دیا اور کبھی کوئی بہانہ بنا کر معذرت پیش کر دی۔راہ نجات، طریق النجات اور بعض اور ارود کتب ورسائل جن کا آپ کو پتہ ملتا۔کبھی کہیں سے کبھی کہیں سے حتی کہ بعض اوقات بمبئی تک سے ٹکٹ بھیج کر منگوا کر پڑھتے اور لڑکوں میں تقسیم بھی کر دیا کرتے تھے۔بعض سادات گھرانے اور قاضی فیملی شہر میں صاحب