اصحاب احمد (جلد 9)

by Other Authors

Page 233 of 485

اصحاب احمد (جلد 9) — Page 233

۲۳۳ چلنے پھرنے کے قابل ہوا تو اس کی ماں نے شیخ مولا بخش صاحب کے پاس اس کے نشست و برخاست کا انتظام کیا۔جہاں سلسلہ بحث مباحثہ اور سوال و جواب ہوا کرتے۔مرض اس کے دونوں سخت تھے جسمانی بھی اور روحانی بھی۔جسمانی مرض کا وقفہ عارضی اور وقتی تھا تو روحانی بیماری اس درجہ تک ترقی کر چکی تھی کہ شیخ صاحب کے بس کی نہیں تھی۔حالات کا مطالعہ کر کے شیخ صاحب نے ” پھیلاں“ کو یہی مشورہ دیا کہ جس طرح ہو سکے لڑکے کو لے کر قادیان پہنچے۔جہاں روحانی اور جسمانی دونوں امراض کے مکمل علاج کے اللہ کریم نے سامان مہیا کر رکھے ہیں۔عورت کے دل کو لگی ہوئی تھی۔ذات برادری گلی محلے بلکہ شہر بھر میں وہ منہ چھپائے پھرتی اور ذلت، بدنامی اور رسوائی کے خیال سے گھر سے نکلتی ہی کم تھی۔شیخ صاحب کا مشورہ اس کے دل لگا بات اس کی سمجھ میں آگئی اور اس نے سفر کی تیاری کر کے بیٹے کو علاج کی غرض سے اس سفر کے لئے رضامند کر لیا۔گاڑی میں بیٹھ ، بیٹے سمیت دوسرے ہی دن بٹالہ اور وہاں سے بذریعہ یکہ قادیان پہنچ گئی۔لڑکے کو مہمان خانہ یا مطب میں ٹھہرا کر خود حضرت اقدس کے دولت سرائے میں گئی۔اور ساری کہانی اپنی زبانی حضرت کے حضور بالتفصیل عرض کر کے چین لیا۔مقربان بارگاہ عالی۔خاصان حضرت تعالی۔مقبولان حق تعالیٰ محبوبان حضرت والا جنہیں الہ العالمین اپنے علم کامل اور قدرت تام سے خلعت رسالت و نبوت عطا فرما تا تبلیغ تزکیہ اور تطہیر ان کا منصب مقرر کرتا۔اور ان کو اعلی خلق عظیم قائم کر کے اعلیٰ اخلاق ، ستودہ صفات اور زیور حسنات دے کر دنیا جہان کے لئے اسوہ اور نمونہ بنا کر بھیجتا ہے ان کا ہر خلق انتہائی کمال اور ان کی ہر ادا عدیم المثال رنگ اپنے اندر رکھتی ہے۔ان کی ظاہر وباطن میں یگانگت اور قول و فعل میں مطابقت ہوتی ہے۔جو کچھ ان کے دل میں ہوتا ہے وہی زبان پر آتا ہے اور جو کچھ وہ کہتے ہیں وہی کر کے بھی دکھاتے ہیں۔ان کے قول و فعل میں تضاد ہوتا ہے نہ ان کے ظاہر و باطن میں اختلاف۔خدا کا وہ تعلق محبت جو ان کے دل کی گہرائیوں میں ہوتا ہے اس کا اثر ورنگ ان کے جوارح اور اعمال میں عیاں ہوتا ہے۔خدا کے رسولوں کی جو محبت اور ان کی جو عزت اور عظمت ان کے قلوب میں موجزن ہوتی ہے وہ ان کی تحریر میں نمایاں اور تقریروں میں بیان ہوتی رہتی ہیں۔علی ہذا خلق خدا اور بنی نوع انسان کی سود و بہبود ہمدردی و بھلائی کے لئے جو جذبات ان کے دل و دماغ میں پنہاں ہوتے ہیں اپنے عمل سے ان کو منصہ شہود پر لاتے اور معدوم کو معرض وجود میں لا کر از عمل ثابت کن آں نورے کہ در ایمان تست کی نظیر مثال اور نمونہ پہلے خود قائم کیا کرتے ہیں کیونکہ یہی