اصحاب احمد (جلد 9) — Page 226
۲۲۶ بڑ بڑا نا شروع کر دیا۔بہت کچھ بولا اور غیض وغضب کا مظاہرہ کیا۔و تم لوگ ہم پر رعب ڈالنے آئے ہو۔ہم تم کو خوب جانتے ہیں۔تمہیں سیدھا کر دیا جائے گا۔ابھی چلے جاؤ ورنہ گرفتار کر لئے جاؤ گئے۔“ اور سپر نٹنڈنٹ پولیس کو جو ان کے ساتھ ہی دورہ پر تھا کہا کہ ان لوگوں کا انتظام ہونا چاہئے۔یہ بہت دلیر ہو گئے ہیں وغیرہ وغیرہ۔سید نا حضرت اقدس دستار مبارک کا شملہ دہن مبارک کے سامنے کئے یہ باتیں سنتے رہے۔میں نے دیکھا کہ حضور کے رخ مبارک پر گہرے رنج کے آثار نمایاں ہو رہے تھے۔افسوس کہ اس وقت کی کیفیت کو لفظوں میں بیان کرنے کی مجھ میں طاقت نہیں۔ورنہ اس اداسی غم اور حزن کا جو نقشہ اور سماں میرے دماغ میں ہے وہ بہت زیادہ ہے۔یہ سب کچھ حضور کو اپنی ذات کی وجہ سے نہ تھا۔بلکہ مخلص۔معزز اور پیارے مہمانوں کے ساتھ بدسلوکی کی وجہ سے تھا۔جو حضور کے حکم بلکہ اشارہ پر اپنے کاروبار کو چھوڑ کر لبیک کہتے ہوئے حاضر خدمت ہوئے تھے۔مہمانوں کے ساتھ حضور اقدس کا حسن سلوک کوئی چھپی لکی بات نہیں۔وفد کے بیانات سننے کے بعد میں نے دیکھا کہ لمحہ بھر کے لئے حضور پر نور کسی گہری سوچ میں خاموش رہے۔اور پھر حضرت مولانا حکیم نورالدین صاحب رضی اللہ عنہ کو مخاطب کر کے فرمایا: مولوی صاحب! اس صورت میں تو ہمارا کام رک جائے گا۔کیونکہ جب ہمارے لئے امن ہی نہ ہوگا تو کام کیسے چلے گا۔مہمانوں یا مذہبی تحقیق کرنے والوں کے واسطے آرام سہولت اور آزادی نہ رہی تو ہمارے ہاں آئے گا کون۔کیونکہ ڈپٹی کمشنر کا ایسا رویہ ہمارے مخالفوں کو اور بھی دلیر بنا دے گا۔پہلے ہی وہ ہمارے مہمانوں کو بات بات پر تنگ کرتے اور ٹوکتے رہتے ہیں۔یہ تو اخلاص ہے ہمارے دوستوں کا کہ وہ مخالفوں کی بدخلقیوں اور تختیوں کو برداشت کر لیتے ہیں۔اسی سلسلہ میں حضور نے ایک دلسوز اور رقت آمیز لہجہ میں فرمایا: مولوی صاحب ! داغ ہجرت کا الہام بھی تو ہے۔جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے لئے بھی ہجرت مقدر ہے۔“ حضور اقدس علیہ الصلوۃ والسلام کے ان کلمات طیبات کو سن کر حضرت حکیم الامت مولانا نورالدین صاحب نے عرض کیا کہ حضور! بھیرہ میں ہمارے اپنے مکانات موجود ہیں۔وہاں ہر طرح آرام اور سہولت رہے گی۔اس طرح چوہدری حاکم علی صاحب نمبر دار چک پنیار ضلع گجرات نے بھی اپنے وطن کی پیشکش کی اور وہاں کی سہولتوں کا ذکر کیا۔ایسے ہی غالباً کسی تیسرے مخلص دوست نے بھی پیش کش کی۔