اصحاب احمد (جلد 9)

by Other Authors

Page 203 of 485

اصحاب احمد (جلد 9) — Page 203

٢٠٣ کا مورد ہو کر اپنے خدا میں گم ہو جاتا اور مقام رضا حاصل کر کے ابدی زندگی کا وارث بن جاتا ہے۔اللهم صلى على محمد وعلى خلفاء محمد وبارک وسلم انک حمید مجید۔از ما و جملہ جہاں امین باد ۵۲ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ۱۳ را پریل ۱۹۰۳ء کو در بارشام میں فرمایا : ایک جانور آج کل کے موسم میں شام کے بعد مسجد مبارک کے شہ نشین احباب پر حملہ کیا کرتا ہے۔اس کے متعلق فرمایا کہ کوئی ایسی تدبیر کی جاوے کہ ایک دفعہ یہ اس جگہ پکڑا جاوے۔پھر ہم اسے چھوڑ ہی دیں گے۔مگر ایک دفعہ پکڑا جانے سے اتنا ضرور ہو گا کہ پھر وہ کبھی آئندہ اس جگہ اس طرح حملہ کرنے کا ارادہ نہ کرے گا۔ہر جانور کا یہ قاعدہ اور اس کے اندر یہ خاصیت ہے کہ جس جگہ سے اسے ایک دفعہ ٹھو کرلگتی ہے اور ( وہ ) مصیبت میں مبتلا ہوتا ہے۔اس جگہ کا پھر وہ کبھی قصد نہیں کرتا۔“ گویا واقعہ لیکھر ام کے بعد قریب کے عرصہ کا واقعہ چند کے حملے کا ہے اور چغد کے حملے کئی سال تک ہوتے رہے۔مدرسہ تعلیم الاسلام کا اجراء ١٠ - مدرس ۵۳ حضرت بھائی جی کے اس مضمون مندرجہ الحکم بابت ۷ ۱۴ار جون ۱۹۳۸ء میں آپ سے استفسارات کر کے خطوط وحدانی میں اضافہ کیا گیا ہے۔(مؤلف) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو یہ معلوم کر کے صدمہ ہوا کہ مقامی آریہ سکول میں مسلمان طلبہ کو گمراہ کرنے کے لئے اسلام پر اعتراض کئے جاتے ہیں۔سو حضور نے اپنا مدرسہ جاری کرنے کا ارادہ فرمایا۔اور ۵ارستمبر ۱۸۹۷ء کو اشتہار کے ذریعہ اور پھر جلسہ سالانہ پر چندہ کی تحریک فرمائی چنانچہ ۱۸۹۸ء کی ابتداء میں مدرسہ تعلیم الاسلام کا اجراء عمل میں آیا۔بھائی جی بیان کرتے ہیں کہ : آریہ مڈل سکول کے مدرسوں کے تعصب اور تنگ نظری سے تنگ آکر جب ہمارے بچوں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا۔اور وہ ہر وقت گندے اعتراضات ، دل آزار حرکات اور توہین آمیز سلوک نہ برداشت کر سکے تو حضرت اقدس کے حضور شکایت پہنچی۔حضور نے تو کلاً علی اللہ دعا واستخارہ اور مشورہ کے بعد اپنا سکول کھولے جانے کا فیصلہ فرما دیا۔سکول کے باقاعدہ کھلنے سے (ہفتہ عشرہ) قبل ہی میں نے ادھر ادھر سے چھوٹے چھوٹے بچوں کو گھیر سنبھال کر بٹھانا اور پڑھانا شروع کر دیا تھا اور جو جس لائق ہوتا اس کی لیاقت