اصحاب احمد (جلد 9)

by Other Authors

Page 190 of 485

اصحاب احمد (جلد 9) — Page 190

190 محمود کے ہاتھوں دوبارہ احیاء ہوا اور اب کے اس نام کے اس رسالہ کے اجراء کا بھی انتظام کیا گیا ہے۔اور اسے حضرت اقدس مسیح موعود الصلوۃ والسلام کی منظوری وسر پرستی کا بھی شرف میسر ہے۔اور کہ حضور نے ۴۴ ہی اس کا نام تفخیذ الاذھان تجویز فرمایا ہے۔مجھے اس خبر سے اتنی خوشی ہوئی کہ میں باغ باغ ہو گیا اور فوراً اس کی ممبری کے لئے یہاں درخواست بھیج دی۔بھائی جی نے ممبری کی درخواست بھیجوانے کے علاوہ حضرت مولانا نورالدین صاحب کی خدمت میں بھی اس بارہ میں سفارش کے لئے تحریر کیا۔چنانچہ حضرت مولوی صاحب نے جوا با تحریر فرمایا کہ۔السلام علیکم۔بے ریب تشخیز الاذھان خوشی کا باعث ہے۔بڑا جلسہ ہوا۔آپ کو مبارک ہو۔میں نے آپ کا ذکر لیکچر میں کیا تھا۔بڑا لیکچر تھا۔آپ کا خط میاں محمود کودے دیا ہے۔داخلہ اور چندہ زیادہ رکھا تھا۔۴۵ میں نے روکا ہے۔۔۔نور الدین ۲۵ / دسمبر ۶۰۶ انجمن کے سیکرٹری حافظ عبدالرحیم صاحب نے اس بارے میں آپ کو تحریر کیا:۔بجواب فیض شمامه آنجناب عرض ہے کہ نظامت نے بڑی خوشی سے آپ کا نام ممبروں میں درج کیا ہے۔گو کمیٹی کو ضرورت پڑی ہے کہ آئندہ ممبروں کو اس نظامت کا مبر شمار نہ کرے۔تاہم چونکہ پہلے بانی مبانی اس انجمن کے آپ ہی ہیں اس لئے انجمن نے خاص شکریہ کے ساتھ یہ موقع خاص آپ کو دیا ہے۔( حضرت مولوی نورالدین صاحب کے مکتوبات بالا کا چمہ یہ بھی اس پر چہ میں درج ہے۔) پہرہ کا آغاز وانتظام نوٹ از مؤلف۔الحکم بابت ۲۷ مئی ، ۷ جون ۱۹۳۹ء میں یہ مضمون زیر عنوانات (ایک مقدس خدا نما وجود ) اور ( سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ) شائع ہوا۔یہاں اس کی ابتدائی تمہید درج نہیں کی گئی حضرت بھائی جی تحریر فرماتے ہیں:۔اس پر آشوب اور فتن زمانہ سے قبل یعنی پنڈت لیکھرام کے واقعہ قتل ( بتاریخ 4 / مارچ ۱۸۹۷ء) سے پہلے قادیان میں سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ذات اور حرم سرا پر کسی پہرہ ونگرانی کا انتظام نہ ہوا کرتا تھا۔ان افواہوں اور خبروں کے باعث جو مختلف ذرائع و وسائل سے تواتر کے ساتھ