اصحاب احمد (جلد 9) — Page 185
۱۸۵ کے لئے زیر الزام اور زیر ملامت ہوئے۔اور جس طرح خدائے برتر و بالا نے قبل از وقت اپنے بندے پر اپنا کلام نازل فرمایا تھا بعینہ اسی طرح رونما و ظاہر ہوا۔خدا کے علم تام اور قدرت کاملہ کے کرشمے اور عجائب در عجائب نشان و کام دیکھنے میں آئے۔تہدید حکام کا معاملہ بھی پورا ہوا۔جوانتظامی رنگ میں صاحب ڈپٹی کمشنر نے ایک نوٹس کی شکل میں حضور کو دیا۔مگر کلام الہی ابراء بھی اپنی پوری شان و شوکت میں ظاہر ہوا۔خدا وند خدا اپنی قدرتوں اور فعلی شہادتوں اور اپنے کاموں ہی سے اپنی ذات کا ثبوت اور ہستی کے دلائل دیا کرتا اور چہرہ نمائی فرمایا کرتا ہے۔جو صحبت انبیاء صادقین کے سوا ممکن نہیں۔ہمیں بھی جو کچھ میسر آیا ، نصیب ہوایا عطا کیا گیا۔خدا کے مقدس جری اللہ فی حلل الانبیاء ہی کے قدموں کے طفیل صحبت کی برکت، انفاس قدسیہ اور تو جہات کریمانہ ہی کے صدقے سے ملا۔اور فی زمانہ خدا کو پانے اور اس کی رضا کے حصول کی اگر کوئی راہ ہے تو صرف یہی ایک سید نا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کھڑ کی کھلی ہے۔نور محمدی کے ظہور اور رحمت الہی میں داخلہ کا دروازہ ہے تو بس یہی وو " ایں سعادت بزور بازو نیست ، چوہدری رام بھیج صاحب دت ایک مشہور آریہ لیڈر اور وکیل گذرے ہیں۔وہ بھی عیسائیوں کی طرف سے اس مقدمہ میں مفت پیروی کیا کرتے اور خاص دلچپسی و انہماک اور جوش و سرگرمی سے عیسائیوں کی مدد کیا کرتے۔میرے محترم بزرگ جی فی اللہ حضرت شیخ یعقوب علی صاحب تراب جنہوں نے تراب بن کر خدا پایا۔اور اس کا عرفان پا کر عرفانی کہلائے۔انہوں نے چوہدری صاحب سے بے تکلفانہ سوال کیا کہ مجھے مجھ میں نہیں آیا کہ آپ کا اور پادریوں کا جوڑ کیا ؟ میں آپ کو اور آپ کی سرگرمیوں کو حیرت و استعجاب سے دیکھا کرتا ہوں۔چوہدری صاحب نے جواب دیا آپ کو مجھ پر تعجب آتا ہے مگر مجھے اس سے بھی بڑھ کر آپ پر تعجب آتا ہے کہ آپ ہمارے جگر گوشے اور لعل ہم سے چھین اور جدا کر رہے ہیں پھر الٹے اس قسم کے سوال بھی کرتے ہیں۔اور تعجب بھی اور یہی امر پھر ۱۹۰۸ء کے جلسہ پیغام صلح کے موقعہ پر جو لاہور یونیورسٹی ہال میں منعقد ہوا تھا۔دہرایا تھا کہ صلح صلح تو آپ کہتے ہیں۔مگر لخت جگرا ور نور نظر ایک ایک کر کے ہم سے لئے جارہے ہیں۔ان کی واپسی اور ہمارے نقصان کی تلافی صلح کی شرط اول ہے۔حقیقت یہ ہے کہ چوہدری صاحب محترم میرے بزرگ اور موہیال بھائی ہونے کے علاوہ ایک ہی بستی یعنی کنجر وڑ دتاں ہی کے رہنے والے تھے اور واقعی میرے تمام بزرگوں کو میری جدائی کا سخت رنج اور بھاری صدمہ تھا۔مگر افسوس یہ ہے کہ