اصحاب احمد (جلد 9) — Page 184
۱۸۴ محترم شیخ محمد اسمعیل صاحب سرساوی فرماتے ہیں کہ وہ بھی صبح کو بٹالہ گئے اور پھر اسی روز واپس قادیان آئے تھے۔مقدمہ جیسا کہ فیصلہ سے ظاہر ہے محض ایک سازش کا نتیجہ اور جھوٹ و بناوٹ کا منصوبہ تھا اور جہاں اس سے اس مقدمہ کی پیروی و تائید و حمایت و امداد کرنے والوں کی اخلاقی گراوٹ اور فطری پستی کا اندازہ کیا جا سکتا ہے وہاں ان کے دین و دھرم کے بطلان ، امانت و دیانت کے فقدان اور شرافت و نجابت سے عاری ، کورے اور دیوالیہ ہونے کا بھی بین ثبوت ملتا ہے۔اس سے بڑھ کر بھی بھلا کوئی مظاہرہ سفاہت ویکمینگی اور رذالت و جہالت کا دنیا میں ممکن ہو سکتا ہے کہ دین و دھرم کے پیشوا اور حق و حقیقت کے مدعی الكفر ملة واحدة ایک جھوٹ بنا کر افترا کھڑا کر کے بہتان و بطلان باندھ کر مل بیٹھیں اور ایک ناکردہ گناہ معصوم و مقدس انسان کو قاتل و سفاک گرداننے کی ہر ممکن کوشش، ہر ممکن امداد حتی کہ جھوٹ تک کی نجاست پر منہ مارنے سے بھی پرہیز نہ کیا جائے۔عیسائی کیا آریہ کیا اور کیا نام کے مسلمان سب مل کر ایک کمان سے تیر چلائیں۔وکالت کریں تو رضا کارانہ ومفت۔شہادت دیں تو بے بلائے اور عدوات وبغض کے باعث یا حسد کی جلن سے مشتعل ہو کر بلکہ بالکل مشتقمانہ رنگ وطریق سے۔الامان الحفیظ۔کہاں ادعائے دین و دیانت اور تقویٰ وصیانت اور کہاں ایسے مکروہ اور ننگ انسانیت افعال۔یہ میں این تفاوت را از کجاست تا به کجا مسل مکمل ہو کر فتوائے موت۔رسوا کن ضمانت یا کسی اور سزائے سخت کا حکم باقی رہ گیا تھا کہ ارادہ الہی اور منشائے ایزدی غالب ہوا۔نیک دل ، پاک فطرت اور عادل حاکم کے دل کو تسلی نہ ہوئی۔یہ پاکباز انسان اور ایسا ناپاک الزام کرسی عدالت کے صدر کی فطرت نے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔دوبارہ تحقیقات کا حکم دیا گیا۔مفروضہ اور بھیجے گئے قاتل کو پوا در ( پادریوں ) سے لے کر معتمد افسران پولیس کے سپر د کر دیا گیا اور اس طرح ان پادریوں کے دباؤ اور طمع و خوف سے آزاد ہو کر سچابیان اور اظہار حق کر دیا۔حالت نے پلٹا کھایا اور جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا | کی صداقت ظاہر ہو گئی۔وہ صاعقہ ستارہ بن گئی۔مومن امتحان میں کامیاب ہوئے۔ایمان اور اخلاص میں ان کو ترقی ملی۔جو مختلف مقامات سے آتے اور اپنی محبت و وفا ، ایمان و اخلاص کی قربانیاں اپنے آقا کے حضور پیش کرتے اور خدمت گزارتے رہے۔باعزت بریت ہوئی۔دشمن روسیاہ ، ذلیل وخوار اور ہمیشہ