اصحاب احمد (جلد 9) — Page 182
۱۸۲ خدا کے ایک پیارے بندے کے مقابل پر آ کرکس حال کو پہنچا، کتنی ذلت اٹھانا پڑی اور کس کس رنگ میں ذلیل وخوار ہوا۔خدا کی پناہ۔ان واقعات کی یاد سے ہی رونگٹے کھڑے ہوتے اور جذبات رحم جوش مارنے لگتے ہیں۔إِنِّي مُهِينٌ مَّنْ اَرَادَ اهَانَتَگ کے وعدہ خداوندی کی تکمیل ظہور میں اب اگر کسی کو شک و شبہ باقی ہو تو اپنی جان پر آزما د یکھے۔سنا کرتے تھے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے مقابل پر آکر نمرود جیسا طاقتور بادشاہ۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مقابل پر فرعون جیسا متمر دحکمران اور ہمارے رسول کریم صلے اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مقابل میں کھڑے ہونے والے صنادید قریش آخر حق کے مقابلہ ومخالفت کی وجہ سے ذلیل وخوار اور تباہ و برباد ہو کر کیفر کردار کو پہنچے۔مگر آج اس جری اللہ فی حلل انبیاء کے فیض صحبت نے ان تمام واقعات کو حقائق بنا کر گویا تازہ کر دکھایا۔نہ صرف یہ شنید دید سے بدل گئی۔بلکہ یقین عین الیقین اور حق الیقین کے مقام پر کھڑا کر کے گویا خدا دکھا دیا۔علیه وعلى مطاعه الصلوة والسلام دائماً۔آمین۔اس دن کی کارروائی کے اختتام پر حضور پر نور سرائے میں تشریف لائے جہاں قیام کا انتظام تھا۔یہ وہی سرائے ہے جس میں آج کل یعنی ۳۹ ء میں ٹاؤن کمیٹی کا دفتر اور ریذیڈنٹ مجسٹریٹ بٹالہ کی کچہری لگتی ہے۔اس زمانہ میں خالص سرائے تھی۔حضور پُر نور سرائے کے جنوب مشرقی کونے کی چھت پر تشریف فرما تھے۔* عدالتی کارروائی کو حضور نے دو ہرایا اور اس کے ساتھ ہی مولوی محمد حسین کے مطالبہ کرسی اور صاحب بہادر کی جھڑکیوں کا ذکر تفصیل سے فرمایا۔جس سے اردلی کے بیان کی من وعن تصدیق ہوئی اور اس طرح خود خدا نے نبی ورسول مقبول علیہ الصلوۃ والسلام کی زبان مبارک سے بھی اس واقعہ کے سننے کی عزت وسعادت ہمیں نصیب ہوئی۔حضور اس واقعہ کا ذکر بار بار فرماتے اور دہراتے رہے۔اور ساتھ ہی تعجب فرماتے رہے کہ ” دراصل حسد اور بغض کی آگ نے اس سے یہ حرکات کرائیں۔ہمارا کرسی پر بیٹھنا وہ برداشت نہ کر سکا۔وہ نہ کرسی مانگتا نہ یہ کچھ ہوتا۔حقیقت میں خدائی تصرف اور الہی ہاتھ نے یہ سب کام کرائے تا خدا کے منہ کی باتیں بھائی جی نے ہی مضمون میں (۱۹۳۹ ء ) اس طرح خطوط وحدانی میں دیا ہے۔گویا ۱۹۳۹ء بوقت تحریر مضمون یہ صورت حال ہے۔