اصحاب احمد (جلد 9) — Page 178
KLA دشوار گزار تھا۔قادیان سے سڑک تک پہنچنے میں تو یکے کو گویا دھکیل یا اٹھا کر ہی لے جانا پڑا۔سڑک پر پہنچ کر یکے کو تیزی سے چلانے کی کوشش کی گئی۔یکہ بان کے علاوہ ہم لوگ بھی دائیں بائیں اور پیچھے سے گھوڑے کی مدد کرتے گئے۔یہ سواری جب انار کلی کے قریب پختہ سڑک پر پہنچی تو کپورتھلہ اور لاہور کے وفا کیش، جان نثا رلب سڑک منتظر دیکھے۔پانچ اصحاب تھے یا سات۔ایک صاحب کمزور اور معمر تھے ان کو حضرت نے یکہ میں بیٹھا لیا۔اور باقی ہمارے ساتھ یکہ کے دائیں بائیں اور پیچھے دوڑے ہوئے کچھ آگے پیچھے بٹالہ منڈی میں پہنچے۔حضرت کی سواری موجودہ شفا خانہ حیوانات کے برابر مقام پر تھی ( یہ شفاخانہ اب تک اسی مقام پر قادیان بٹالہ سڑک پر موجود ہے۔مؤلف ) کہ سامنے کے کھلے میدان اور چوک میں جبہ پوش مولوی محمد حسین بٹالوی اپنے دونوں ہاتھ کمر کے پیچھے جبہ کے نیچے کئے خاص انداز میں ٹہلتے اور ایک بھیڑ سڑک کے دونوں کناروں پر کھڑی دکھائی دی جو کسی بُرے منظر اور شیطانی وعدے کے ایفاء کے انتظار میں جمع تھے۔انہوں نے وارنٹ گرفتاری کی شیطانی پیشگوئی تو سن رکھی تھی۔مگر خدا کی قدرت کا ہاتھ ان کی نظروں سے اوجھل تھا۔وہ اس امید پر جمع تھے کہ نعوذ باللہ حضور کو ذلت ورسوائی میں دیکھ کر خوش ہو نگے۔پولیس کی حراست و نگرانی اور ہاتھوں میں کڑیاں ہوں گی۔مگر جب دیکھا کہ حضور آزاد ہشاش بشاش اپنے غلاموں کے حلقہ میں یکہ سے اترے ہیں۔پولیس ہے نہ کوئی اہلکار ہیں۔سبھی غلام و وفا دار کوئی ساتھ آئے ہیں تو کوئی تشریف آوری کی انتظار میں تھے۔ایک دوسرے سے اور دوسرا تیسرے سے بڑھ کر قربان و شار ہونے کو تیار تھا۔اس نقشہ کو دیکھ کر وہ غول بیابانی کچھ اس طرح غائب ہوا جیسے گدھے کے سر سے سینگ۔گورداسپور سے شیخ علی احمد صاحب اور لاہور سے مولوی فضل الدین صاحب وکیل آئے۔حضرت مفتی محمد صادق صاحب پروانہ شمع نور و ہدایت اور عاشق و فدائے احمد قادیانی جو شاذ ہی کبھی ایسے موقع کو ہاتھ سے دیا کرتے تھے۔نیز فرشتہ سیرت صالح نوجوان مرزا ایوب بیگ صاحب مغفور۔شیخ رحمت اللہ صاحب اور بعض اور دوست بھی پہنچے۔امرتسر سے غالباً دو تین دوست آئے۔جن میں محترم شیخ یعقوب علی صاحب تراب خوب یاد ہیں۔قادیان سے چند احباب اور دوسرا یکہ بھی معہ سامان آ گیا تھا۔حضور سواری سے اتر خراماں خراماں پورے وقار کے ساتھ حلقہ بگوش پروانوں کے حلقہ میں ٹہلتے وکلاء اور آنے والے مہمانوں کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے ڈاک بنگلہ بٹالہ کی طرف بڑھے جہاں صاحب ڈپٹی کمشنر اترا ہوا تھا۔صاحب کے اردلی نے دور ہی سے آتے دیکھ کر اندر اطلاع کی اور اس طرح فوراً ہی حضور کو اندر بلا لیا گیا۔انتظار آواز بھی نہ اٹھانا پڑی۔جبہ پوش مولوی جو منڈی اور اڈہ خانہ کے چوک میں ایک