اصحاب احمد (جلد 9)

by Other Authors

Page 162 of 485

اصحاب احمد (جلد 9) — Page 162

۱۶۲ زمین میاں امام الدین صاحب عرف ما ناچنے فروش نے دی۔اس کا تخمینہ دس ہزار روپیہ خرچ کا تھا۔بنیاد نہایت گہری۔لمبی چوڑی اور کنکریٹ وغیرہ کے ذریعہ مضبوط کرائی گئی تھی۔چھ فٹ سے اوپر کی تعمیر کا کام مکرمی قاضی عبد الرحیم صاحب بھٹی کی زیر نگرانی ہوا۔۳۔بٹالہ کی یادگاریں حضرت بھائی جی نے ۳۰ جولائی ۱۹۵۳ء کو بٹالہ جا کر اکاون احباب کو جن میں خاکسار مؤلف قادیان سے باہر ہونے کی وجہ سے شامل نہ تھا ذیل کی یادگار میں دکھلائیں : ا پلیٹ فارم بٹالہ اونچے پلیٹ فارم بٹالہ کا مشرقی حصہ جو شرقی واٹر پمپ ( جہاں سے انجمن پانی لیتے ہیں ) سے کوئی پچاس فٹ مغرب کی طرف ہے یہ وہ مقام ہے جہاں بعد میں وصال حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا تابوت مبارک لاہور سے آنے والی گاڑی کے ڈبہ سے اتار کر رکھا گیا۔تابوت ساڑھے گیارہ بجے رات گاڑی سے اتارا گیا تھا اور قریباً ایک گھنٹہ یعنی ساڑھے بارہ بجے رات تک پلیٹ فارم پر رکھا رہا۔۲- آم کا درخت یہ وہ آم کا درخت ہے جس کے نیچے پلیٹ فارم سے تابوت اٹھا کر لا کر رکھا گیا تھا۔یہ آم کا درخت اسٹیشن سے باہر سیڑھیاں اتر کر لب سڑک غربی جانب ہے اس درخت کے نیچے تابوت دو گھنٹے کے قریب رکھا رہا۔پھر تابوت کو چار پائی پر رکھا گیا۔یہیں سے قادیان سے آنے والے مسیح پاک کے پروانوں نے ہاتھوں ہاتھ کندھوں پر قادیان پہنچا دیا۔اس آم کے درخت کے متعلق حضرت بھائی جی کے بیان فرمودہ کی یہ پیرا الحکم بابت ۲۰۱۴ / جنوری ۱۹۴۰ء سے اخذ کیا گیا ہے۔البتہ خطوط وحدانی والی عبارت حضرت بھائی جی کی ایک قلمی تحریر سے زائد کی گئی ہے جو خاکسار مؤلف کے پاس ہے۔سیّد عبدالرشید نام میں سہو ہے۔اصل نام سید محمد رشید ہے۔اس کتاب میں دوسری جگہ اس بارے میں قدرے تفصیل درج کی گئی ہے۔قاضی صاحب کے حالات کے لئے دیکھئے اصحاب احمد جلد ششم۔