اصحاب احمد (جلد 9) — Page 161
۱۶۱ پہنچے ہیں پیچھے عورتیں بہت متفرق ہیں اور خطرہ ہے کہ کوئی اندھیرے کی وجہ سے ڈھاب میں نہ گر جائے ان کی مدد کرو۔چنانچہ ہم سے جو کچھ ہو سکا مستورات کی اس پریشانی میں ان کی خدمت کی کوشش کی۔عورتوں کو بہت پریشانی ہوئی بعض کے برقعے اڑ گئے، زیور گر گئے راستہ بھول گئیں۔میں نے حضور پرنور اور سیدۃ النساء حضرت اُم المؤمنین کو اس جگہ واپس آتے دیکھا تھا جہاں آجکل مرزا محمد اشرف صاحب کا مکان واقع ہے۔حضرت نانی اماں بھی اس طوفان میں گھر گئی تھیں جن کو لے کر میری اہلیہ والدہ عزیز عبد القادر راہ بھول گئیں اور کھیتوں میں نکل گئیں۔اور جب اجالا ہوا تو مولوی غلام رسول صاحب افغان والے مکان کے راستے سے ڈھاب اور کھیتوں میں ہوتے ہوئے (اپنے ) گھر لائیں۔گھر لا کر ان کو کپڑے بدلوائے۔بستر دے کر گرم کیا اور جو کچھ ہو سکا خدمت کی۔ادھر گھر میں ان کی تلاش ہوئی۔باہر نہ ملیں تو گھروں میں سے معلوم کرنا شروع کیا۔آخر معلوم ہوا کہ قادیانی کے گھر میں بخیریت ہیں مگر یہ واقعہ بہت بعد کا ہے۔سیر کا مذکورہ بالا واقعہ اہلیہ محترمہ بھائی جی نے خاکسار مؤلف کو ازخود سنایا تھا جس میں یہ بھی بتایا تھا کہ بچوں والی خواتین پیچھے رہ گئی تھیں ان کے کپڑے اڑ گئے زیور گم گئے۔جب گھروں میں حضرت نانی جان کی تلاش ہوئی تو بھائی جی نے اپنے گھر آکر آواز دے کر پوچھا تو حضرت ممدوحہ نے کہا کہ میں یہاں موجود ہوں اور پھر فور ادار مسیح کی طرف روانہ ہو گئیں کہ میری بچی نصرت کو تشویش رہے گی۔بھائی جی نے فرمایا کہ اس وقت میرا مکان حضرت خلیفہ اول کے مکان کے شمال کی طرف تھا جو حضور نے بعد میں مجھ سے خرید لیا تھا۔منارة اصبح (منارہ مسیح کی بنیاد کے وقت میں حاضر تھا۔دعاؤں میں شریک اور خدمات متعلقہ کی سعادت سے بہرہ ور تھا۔فالحمد للہ۔الحمد لله ثم الحمد لله ) منارۃ اسیح جس کی تعمیر و تکمیل کے ساتھ بہت کچھ بشارات اور ترقیات وابستہ تھیں اور جس کی بنیاد سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے خود اپنے دست مبارک سے رکھی جو بنیاد کے علاوہ سطح صحن مسجد سے چھ فٹ اوپر تک حضور ہی کے زمانہ میں تیار ہوا۔اور وہیں رکا پڑا تھا اس کی تعمیر و تکمیل بھی خلافت ثانیہ ہی میں ہوئی۔منارۃ المسیح کا نقشہ اور تخمینہ سید عبدالرشید صاحب مرحوم برادر صغیر حضرت میر حامد شاہ صاحب سیالکوٹی نے بنایا۔اینٹوں کے لئے