اصحاب احمد (جلد 9) — Page 142
۱۴۲ ایک نو جوان بنام کتھا سنگھ بھی اسلام واحمدیت قبول کر کے ہجرت کر آئے تھے جن کا نام عبدالرحمن تھا اور وہ ضلع گورداسپور کے باشندہ تھے۔ان دنوں قادیان میں کوئی ذریعہ معاش نہ تھا احباب لنگر خانہ سے کھانا کھاتے تھے۔کبھی کبھار کوئی کام سلسلہ کا ہوا تو کر لیا۔مثلا بڑے باغ کی صفائی کر دی ورنہ ساری مشغولیت نمازوں اور دینی مصروفیات کی ہی ہوتی تھی۔لنگر خانہ کا مقام وانتظام * امر واقع یہی ہے۔اور حقیقت بھی یہی ہے کہ (لنگر خانہ ومهمانخانہ ) ان ہر دوا ہم ضروری اور مقدس ترین مدات کی نہ صرف داغ بیل ہی سید نا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے خدا پر بھروسہ کرتے ہوئے خود اپنے دست مبارک ہی سے ڈالی بلکہ نہایت ہی نا موافق اور مخالف حالات ، بے سروسامانیوں اور مشکلات اور قحط وگرانیوں میں سے گذرتے ہوئے متواتر پچیں تمہیں سال تک ایسی کامیابی ، خندہ پیشانی، فراخدلی بلکہ گہرے قلبی شوق اور ذوق سے آخری وقت تک اس انبیائی خلق یعنی اکرام ضیف کی بیل کو پروان چڑھایا کہ سوائے خدا کے نبیوں اور رسولوں کے اور کے لئے ممکن ہی نہ تھا۔خدا کے پیارے مسیح کا لنگر اول اول گھر کے اندر ہی جاری ہوا۔وہیں کھانا تیار ہوا کرتا تھا۔ابتداء میں چپاتیاں ہوا کرتیں تھیں۔جو گھر کے اندر ہی خادمات پکاتی تھیں۔ترقی ہوتی گئی تو توے کی بجائے لوہ پر کئی کئی عورتیں مل کر چپاتیاں پکانے لگیں۔(۱۸۹۵ء میں لنگر خانہ الدار کے اس حصہ میں تھا جہاں تقسیم ملک سے قبل حرم اول سید نا حضرت خلیفہ ☆ یہ پیرا الحکم بابت ۱۴۰۷ رمئی ۱۹۳۸ء صفحہ ۲۲،۱۷ کی دو الگ الگ روایات کو مخلوط کر کے درج کیا گیا۔اور خطوط واحدانی کی عبارت حضرت بھائی جی سے خاکسار مؤلف نے استفسار کر کے اضافہ کی ہے۔شیخ عبدالرحمن صاحب قوم جٹ جو موضع بر کلاں نزد قادیان کے باشندہ تھے۔حضرت اقدس علیہ السلام کے ذریعہ مسلمان ہوئے تھے۔بھائی جی فرماتے ہیں کہ وہ اور کتھا سنگھ دو الگ الگ افراد تھے۔نیز بھائی جی کی فائل وصیت میں بھائی جی کی چٹھی مورخہ ۸ ظہور ۱۳۱۹ ہش ( مطابق ۸ راگست ۱۹۴۰ء) میں مرقوم ہے کہ ایک نو مسلم کتھا سنگھ عبدالرحمن تھے۔* لنگر خانہ کا مقام و انتظام کے زیر عنوان روایت الحکم بابت ۱۴،۷ مئی ۱۹۳۸ء صفحہ ۱۷ و بابت ۱۴، ۲۱ جنوری ۱۹۴۰ء صفحہ ۱۶ کالم ۲۱ سے ماخوذ ہے۔