اصحاب احمد (جلد 9) — Page 132
۱۳۲ کنواں تھا مگر وہ حضور پُر نور کے بڑے بھائی کے حصہ میں چلا گیا۔حضرت کے گھر اور مہمانوں کے ہاں تو ستے بہشتی جہاں سے چاہتے پانی لے آتے۔مگر ہم لوگوں کو اپنی ضروریات کے لئے مسجد اقصیٰ ہی کے کنویں پر جانا پڑا کرتا تھا۔کیونکہ ایک طرف تائی صاحبہ محترمہ تو دوسری طرف مرزا امام الدین اور مرزا نظام الدین صاحبان ڈانٹ ڈپٹ کیا کرتے اور بعض اوقات نا قابل برداشت طعن و تشنیع تک نوبت پہنچا دیتے۔پس اس طرح ہمارے لئے صرف ایک خدا کے گھر کا کنواں کھلا تھا جس طرح کہ خدا عالم و عالمیاں نے اس مقدس و مقبول الهی بزرگ قطب اور غوث انسان کے دو بیٹوں میں سے ایک کو اپنے نور کا سرچشمہ اور فیوض کا منبع بنا کر ہمیں اس تک پہنچا دیا اور وہ اکیلا ہی خلق و جہاں کے ورثہ میں آیا۔اسی طرح آپ کے ترکہ مادی کے دو کنوؤں میں سے ایک اور صرف ایک ہی کنواں آنے والی پیاسی دنیا کے لئے کھلا تھا جو فضل الہی سے اس نواح میں اپنے پانی کی لطافت و پاکیزگی ، صحت افزائی و تنگی نیز بعض اور خواص کے لحاظ سے بھی ممتاز ہے۔مهمان خانه اس زمانہ میں ابھی کوئی نہ تھا۔سید نا حکیم الامت حضرت مولانا نورالدین اعظم رضی اللہ عنہ کے مطب ہی میں آنے والے مہمان قیام کیا کرتے۔اور یہی جگہ سب کے لئے کافی اور دافی ہوا کرتی تھی یا پھر حضرت اقدس کا الدار بطور مہمان خانہ استعمال ہوتا تھا۔لنگر خانه لنگر خانہ بھی علیحدہ کوئی نہ تھا بلکہ حضرت اقدس کے مکان کے اندر ہی ملک غلام حسین صاحب سالن وغیرہ تیار کرتے اور روٹی خادمات تیار کر لیا کرتیں۔دفتر تھا اس زمانہ میں کوئی نہ محکمہ نظارت و وزارت ، مہمان نوازی ، مسافر نوازی اور غریب نوازی۔اور کیا تالیف و تصنیف ، طباعت واشاعت ، بیمار پرسی و عزا پرسی۔الغرض عام دینی کام تنہا سیدنا حضرت اقدس ہی کو کرنا پڑتے۔سب افکار ، سارے انتظام صرف اور صرف حضور کے ذمہ تھے جن کو نہایت خوش اسلوبی اور بطریق احسن سرانجام پہنچایا جاتا۔الغرض یہ ہستی اپنے عروج و اقبال کے بعد بعض مصالح الہی کے ماتحت دوبارہ ویرانہ وجنگل میں تبدیل