اصحاب احمد (جلد 8) — Page 41
(حیات قدسی) کے پانچ حصص مطالعہ فرمائیں۔یہاں آپ کے سوانح نہایت اختصار سے حصول برکت کے لئے بعض زائدا مور شامل کر کے اس کتاب میں شامل کئے ہیں۔حیات قدمی سے آپ کے شمائل حسنہ پر خوب روشنی پڑتی ہے اور آپ کی علق شان کا علم ہوتا ہے۔حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب مدظلہ اللہ تعالیٰ حصہ اوّل کے متعلق رقم فرماتے ہیں:۔بہت رُوح پرور مضامین ہیں۔ایسی کتابوں کی احمد یوں اور غیر احمدیوں میں بکثرت اشاعت ہونی چاہئے۔“ یہ سلسلہ خدا کے فضل سے بہت مفید اور روحانی اور دینی تربیت کے لحاظ سے بہت فائدہ مند ہے۔۔۔روح کو جلا دینے کے لئے ایسا لٹریچر نہایت درجہ مفید ہوتا ہے۔“ 66 مجاہدات اور ان کے نیک اثرات کشف والہام کی برکات جن ایام میں آپ موضع گولیکی میں زیر تعلیم تھے۔باوجود یکہ آپ کی عمر ابھی بہت چھوٹی تھی۔آپ اکثر صوم الوصال کے روزے رکھتے اور نماز مغرب کے بعد سورہ یس ، ملک ، مزمل سورتیں اور دروداکبر اور درود مستغاث اور درود وصال اور حضرت سید عبدالقادر جیلانی ” کے درود کبریت احمر کا وظیفہ بالالتزام کرتے تھے اور قریب کے ریگستانی ٹیلوں پر محاسبہ و مراقبہ کی غرض سے جاتے اور گھنٹوں یاد الہی میں تڑپ تڑپ کے روتے اور دعائیں کرتے تھے لیکن آپ کو ان ایام میں کسی مرد کامل کی دستگیری حاصل نہ تھی۔کیونکہ اس علاقہ کے صوفی اور سجادہ نشین کے بیشتر مشاغل کشف القبور، کشف القلوب اور سلب امراض تک محدود تھے۔نیز حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کی کتاب الذکر الجمیل کے مطابق لا الہ الا اللہ کا ذکر جو نفی اثبات کے معنوں میں عام شہرت رکھتا ہے اور ایک ضربی، دوضربی اور سہ ضربی کہلاتا ہے۔حضرت مولانا راجیکی صاحب یہ ذکر بھی کرتے تھے کیونکہ اس وقت تک کسی مرد کامل کی دستگیری آپ کو حاصل نہ تھی۔حضرت اقدس کی بیعت کے بعد بھی آپ نے یہ وظائف جاری رکھے بلکہ نقشبندی طریق پر فنانی الشیخ کی منزل طے کرنے کے لئے آپ نے حضرت اقدس کا تصور بھی پکانا شروع کیا۔چند دن بعد اچانک آپ کے دل میں یہ خیال ڈالا گیا کہ حضرت اقدس