اصحاب احمد (جلد 8) — Page 35
۳۵ مولوی ثناء اللہ نے آدھ گھنٹہ کا وقت دیا۔جو کافی نہ تھا۔اس دن ٹانگے والوں کی ہڑتال تھی مگر خدا کی قدرت کہ میں جب پنڈال سے نکلا تو ایک یکہ کھڑا تھا۔اس سے پیسے پوچھے تو اس نے آٹھ آنے مانگے۔میں نے منہ مانگے دام دیئے اور حج صاحب کی کوٹھی پر آیا۔مولا نا کو قصہ سُنایا۔وہ اس وقت اعصابی تکلیف میں مبتلا تھے۔اس وقت بے اختیار ان کے منہ سے نکلا کہ پھر چلیں؟ میں نے کہا کہ ہاں۔گرم کوٹ کھونٹی سے اتار کر پہن لیا اور اللہ کا نام لے کر یکے پر بیٹھ گئے اور اعصابی دردوں کی موجودگی میں پنڈال پہنچ گئے۔آٹھ دس ہزار کا مجمع تھا۔سامنے سے صفوں کو چیرتے ہوئے سٹیج پر چلے گئے۔مولانا کو شاء اللہ نے منگوا کر کرسی دی اور پاس سٹیج پر بیٹھ گیا۔اس غیرت ایمانی سے طبیعت میں ایک ایسی حالت پیدا ہوئی کہ وہ دورہ رک گیا۔مباحثہ شروع ہوا دو گھنٹہ تک وہ رنگ پیدا ہوا کہ غیر احمدیوں نے ہمارے مبلغ کے ہاتھ چومے اور دعا کی درخواستیں دیں۔منگلور کی بندرگاہ میں اُترے۔جہاز سمندر میں دو تین میل دور کھڑا ہوا۔کشتی کے ذریعہ بندرگاہ تک آنا تھا۔مولانا کی حالت ایسی تھی کہ نبض گر رہی تھی۔رنگ زرد اور چہرہ پر پسینہ اور آنکھیں بند تھیں اور مجھے اندیشہ تھا کہ شائد وہ زندہ کنارے تک پہنچ سکیں یا نہ۔سمندر نے طوفانی رنگ اختیار کر لیا۔موج پر موج اُٹھنے لگی۔کشتی موج کی دھار پر پچاس فٹ اونچی چلی جائے اور کبھی دھاروں کے درمیان نیچے چلی جائے۔اوپر سے خطرہ محسوس ہوتا کہ دونوں دھار میں مل جائیں گی اور سب مسافر ہمیشہ کی نیند سو جائیں گے۔میرے قلب کو یہ تسلی تھی کہ ہم دین کے لئے نکلے ہیں۔اگر مر گئے تو شہید ہوں گے۔رنج تھا تو یہ کہ پیغام حق نہ دیا جائے گا۔اس حالت میں کشتی والوں نے شور مچایا یا بخاری هیا اللہ ہمارے مبلغ کی آنکھیں کھلیں۔اس کی آنکھوں میں خون اترا اور وہ خون سارے جسم میں دوڑا۔اس نے کڑک کر کہا کہ یہ کیا بکتے ہو۔بخاری ہمارے جیسا ایک آدمی تھا۔کشتی والے سہم گئے۔مولانا کے منہ سے ایک تیز فوارے کی طرح کلام جاری ہو گیا اور تو حید اور پھر رسالت اور احمدیت کا وعظ ہونے لگا۔چند آدمیوں کے سوا اور کوئی سمجھتا نہ تھا۔مگر آپ نے ان پر اتمام حجت کر دی۔اس حالت جوش نے اعصابی دردوں میں کمی کر دی۔ہم بخیریت کنارے پر پہنچ گئے۔