اصحاب احمد (جلد 8)

by Other Authors

Page 147 of 185

اصحاب احمد (جلد 8) — Page 147

۱۴۸ ڈاکٹر صاحب لکھتے ہیں کہ :- ”میرے لئے یہ شادی کیسی خوش آثار تھی کہ جب حضرت محمود دلہن کو لینے کے لئے تشریف لے گئے تو اس وقت محمود نے صرف اپنے اس ایاز کو ساتھ لیا اور یہ دو شخصوں پرمش ر مشتمل برات تانگہ پر سوار ہو کر دلہن کے گھر پہنچی اور دلہن کو رخصت کر الائے۔“ سیدہ مرحومہ کی آخری علالت میں ڈاکٹر صاحب کو بھی لاہور کے قیام میں حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کی معیت حاصل رہی۔سیدہ موصوفہ کی وفات پر بعد تجہیز و تکفین جنازہ لاری میں رکھا گیا تو حضور کی طرف سے ڈاکٹر صاحب کی یہ ڈیوٹی لگائی گئی کہ نعش کے پاس قادیان تک بیٹھیں۔جو آپ نے ادا کی حمید وفات حضرت سیدہ ام ناصر حضرت سیّدہ ام ناصر صاحبہ جس مرض سے وفات پاگئیں۔شدید علالت میں حضور نے ڈاکٹر صاحب کو ان کے پاس مری بھجوا دیا تھا جو وفات کے بعد ہی وہاں پہنچ سکے۔حضور کے بعض سفر سوائے شاذ کے حضور کے تمام سفروں میں ڈاکٹر صاحب کو رفاقت نصیب رہی۔۱۹۲۶ء میں ڈلہوزی میں حضور کا قیام پورٹ لینڈ ہال نامی کوٹھی میں ہوا جو کہ بکر وٹہ پہاڑی کے وسط میں تھی۔اس سفر کے دوران حضور اور مولوی محمد علی صاحب کے درمیان خاص شرائط کے ساتھ مصالحت ہوئی اور دعوتیں ہوئیں۔پہلے مولوی محمد علی صاحب حضور کے ہاں پھر حضور ان کے ہاں کھانا کھانے کے لئے گئے لیکن یہ صلح جلد ہی ختم ہوگئی اس لئے کہ پیغام صلح میں سخت مضامین جلد ہی شائع ہونے شروع ہو گئے۔حالانکہ شرائط کی رو سے مضامین میں سختی بالکل روک دی گئی تھی۔ڈاکٹر صاحب بیان کرتے ہیں کہ ۱۹۲۷ء میں حضور قریباً تین ماہ شملہ میں جا کھو پہاڑ پر کنگز لے ل ۵ / مارچ ۱۹۴۴ء الفضل مورخہ ۴۴-۳-۱۲ میں حضرت مدوحہ کے شامل ڈاکٹر صاحب کی قلم سے لائق مطالعہ ہیں۔(مؤلف)