اصحاب احمد (جلد 8) — Page 135
میسر آتی ہے تو لوگ اسے مبارک دیتے ہیں۔سو میرے درود قادیان پر مجھے زبان سے مبارکباد کہنے کی بجائے صاحبزادہ مبارک احمد سلمہ اللہ کو ساتھ لا کر تصویری زبان میں مبارک باد دے دی اور رسمی الفاظ سے اجتناب کیا جس میں میرے لئے خیر کا پہلو تھا کہ مجھے پہلے روز ہی فخر وغیرہ مرض سے بچے رہنے کا سبق دیدیا اور یہ بھی سبق دیدیا کہ تعلقات قلبی محبت کی وجہ سے قائم رہ سکتے ہیں۔اب میں چھ مہینہ کی لمبی رخصت کیوجہ اس طرح مقیم ہو گیا جیسا کہ انسان لمبے سفر کے بعد اپنے گھر میں واپس آجاتا ہے۔جب میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے جنازہ کے ساتھ قادیان آیا تھا تو مجھے یہ شدید خواہش پیدا ہوئی تھی کہ خدمت دین کی خاطر قادیان میں ٹھہر جاؤں سو اللہ تعالیٰ نے یہ خواہش پوری کر دی۔چونکہ انفلوئنزا کے حملہ کی وجہ سے حضور کو اعصابی کمزوری لاحق ہو گئی تھی۔اس لئے صحت کی نگرانی زیادہ کرنی پڑی اور حضور کو بھی فکر رہتا تھا کہ تندرستی اور توانائی جلد واپس آ جائے تا کہ اپنے فرض منصبی کو کما حقہ، ادا فرما سکیں۔اس لئے میرے اس لمبے قیام کے پہلے تین ماہ میں حضور اس جگہ تشریف لے آئے جہاں میں رہتا تھا اور اپنی ڈاک کا کام وہیں بیٹھ کر کرتے اور دفتری کام اور ملاقاتیں بھی وہیں فرماتے اور ایک وقت کا کھانا میرے ساتھ بیٹھ کر کھاتے۔میرا کھانا حضرت سیّدہ ام ناصر کے ہاں سے آتا تھا۔اس طرح پر جب تین ماہ گزر گئے اور میں نے اندازہ لگالیا کہ میرا پٹیالہ واپس جانا حضور کو پسند نہیں تو ایک روز میں نے عرض کیا کہ میں کیوں نہ استعفا دیدوں؟ تو حضور نے فرمایا ہاں بھیجد ہیں۔میں نے اسی روز اسبارہ میں درخواست بھیجدی۔میرے افسر سول سرجن نے میری واپسی کی بہت کچھ کوشش کی لیکن میں ٹھہر ہی گیا۔میں کسی لائق نہ تھا۔میرے رب محسن نے خود ہی خدمت کے لائق بنایا پھر میری تڑپ کو دیکھ کر خود ہی مجھے اس عظیم الشان موعود کی خدمت پر لگا دیا۔حضرت میاں صاحب کو کشتی چلاتے دیکھنے کی خواہش کا پورا ہونا ۱۹۰۵ء میں میں قادیان آیا۔یہ سن کر کہ حضرت میاں صاحب کشتی چلانے کے لئے آگئے