اصحاب احمد (جلد 8)

by Other Authors

Page 129 of 185

اصحاب احمد (جلد 8) — Page 129

(۲) حضور کی آمد سے قریباً ایک ہفتہ پہلے سرکاری محکمہ کا نجات کے ایک بڑے افسر بابو عبدالعزیز کی ران کی ہڈی ٹوٹ گئی۔جس کے علاج کے لئے پٹیالہ کے سول سرجن اس کے ہاں پہنچے اور سپلنٹ وغیرہ لگا آئے لیکن مریض کو دو دن اور دورات ذرہ چین نہ آیا۔آخر اس نے اس ناچیز کو بلایا اور پھر درد کی شکایت نہ کی۔حضرت کی آمد سے تین چار روز پہلے میں نے ضروری سامان حضور کی آمد کے موقع کے لئے مہیا کرنے کے لئے کہا تو اس نے سرکاری سامان میں سے مندرجہ ذیل سامان مہیا کر دیا اور تقریر کے مقام پر سامان پہنچانے اور جلسہ گاہ کو تیار کروانے کا انتظام خود ہی کروایا -1 -۲ دو گھوڑا گاڑیاں جو بر وقت جائے قیام حضور ایدہ اللہ پر موجودر ہیں۔جلسہ گاہ کے فرش کے لئے دس بڑی بڑی دریاں اور چاندنیاں۔۔ڈیڑھ سو کرسیاں -۴- تین زربفت کوچ -۵ -Y چھ بڑے بڑے گیس لیمپ، لالٹین کی شکل کے کھمبوں پر لگے ہوئے۔پچاس پلنگ بڑے بڑے یہ سب سامان اس نے سرکاری آدمیوں کے ذریعہ بھجوایا اور نصب کروادیا اور واپس منگوایا۔خدا تعالیٰ کی خاص نقد بر نظر آتی ہے کہ کس طرح پر وہ شخص بیمار ہوتا ہے جس کے پاس یہ سامان تھا اور پھر اس ناچیز کے ہاتھ سے ہی اس کو آرام پہنچتا ہے اور اس ناچیز کے منشاء کے مطابق وہ تمام ضروری سامان بخوشی مہیا کرتا ہے۔آج کل ایسا سامان بڑے شہروں میں مہیا ہو جانا مشکل امر نہیں جبکہ ہر چیز کرایہ پر مل سکتی ہے لیکن ایسی جگہ پر جہاں یہ چیزیں کرایہ پر قطعاًنہ مل سکتی ہو۔اس قدر سامان کا مہیا ہونا رحمت الہی کا نشان نہیں تو اور کیا ہے؟ اس ملاقات کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے حضرت محمود کے دل میں اس عاجز مسکین کی کچھ قدر ہوگئی۔چنانچہ حضرت مولوی عبداللہ سنوری نے جو حضور کے ہمراہ پٹیالہ سے واپسی پر قادیان تک گئے تھے بتلایا کہ راستہ میں حضور نے کئی اسٹیشنوں پر پٹیالہ کے شاندار جلسہ گاہ کے انتظام اور دیگر انتظامات کی بہت تعریف فرمائی۔