اصحاب احمد (جلد 8) — Page 127
۱۲۸ اور کہا کہ دیکھیں ہماری قسمت کیا دکھاتی ہے۔شام کو موٹر آتی ہے کہ نہیں۔خدا تعالیٰ کے فضل سے موٹر پہنچ گئی اور میں اور میاں عبداللہ صاحب سنوری سیر کرتے ہوئے خلیفہ صاحب کے مکان پر چلے گئے اور مجھے موٹر میں اس دن پہلی بار بیٹھنے کا موقع ملا۔جو حضرت ایدہ اللہ کے طفیل تھا۔میں نے پٹی لگانے کا کام ختم کر کے خلیفہ ہادی حسن صاحب سے کہا کہ فلاں تاریخ کو ہمارے حضرت صاحب ایک دن کے لئے پٹیالہ آ رہے ہیں۔براہ مہربانی ہمیں چوبیس گھنٹہ کے لئے موٹر دے دیں۔یہ سن کر وہ سوچ میں تو پڑ گئے مگر میرے کہنے کو ر ڈ کرنا بھی مشکل تھا۔آخر ہاں کر لی۔ساتھ ہی کہا کہ پٹرول کا انتظام آپ کر لیں۔میں خوشی خوشی گھر واپس آ گیا اور حضرت ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کی خدمت میں خط لکھدیا کہ انشاء اللہ تعالی محض فضل ربی سے موٹر کا انتظام ہو جائے گا۔فلاں شخص نے موٹر دینے کا وعدہ کر لیا ہے۔اس پر حضور نے تشریف آوری کی اطلاع دیدی اور آٹھ اکتوبر ۱۹۱۷ ء کی رات کو دس بجے کے قریب انبالہ کی طرف سے راجپورہ اسٹیشن پر پہنچے۔جہاں یہ نا چیز بندہ پٹیالہ سے موٹر لے کر حاضر تھا۔جو نہی حضور کی نظر مجھے پر پڑی تو فرمایا ڈاکٹر صاحب! موٹر لے آئے ہیں؟ عرض کیا الحمد للہ لے آیا ہوں۔حضور بہت خوش معلوم ہوئے۔رات حضور نے ریز روڈ بے میں گزاری۔صبح نماز کے ایک گھنٹہ بعد موٹر منگوائی اور فرمایا پہلے حضرت مجد دالف ثانی علیہ الرحمۃ کے مزار پر دعا کے لئے سر ہند جائیں گے لیکن حضرت ام المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا آپ کا وہاں جانا پسند نہ فرماتی تھیں۔غالباً اس لئے کہ یہ کابلی لوگوں کی آمد ورفت کا مقام ہے لیکن چونکہ حضرت عزم فرما چکے تھے۔اس لئے جمعیت حضرت میاں شریف احمد صاحب اور حضرت مولوی عبدالرحیم صاحب نیر اور اس عاجز کے سرہند کو روانہ ہو گئے۔حضرت مجد دصاحب الف ثانی کے مزار پر پہنچ کر حضور نے ہیں منٹ تک دعا کی۔پھر حضرت کے بیٹے کے مزار پر بھی دس منٹ تک لمبی دعا کی اور وہاں کے سجادہ نشین احباب سے ملاقات کی اور بطور عطیہ کچھ رقم بھی دی۔یہاں سے واپس راجپورہ پہنچے جو راستے میں آتا تھا۔پھر پٹیالہ تشریف لے گئے۔یہاں اول حضور نے نہایت پر معارف اور مؤثر تقریر فرمائی جو ڈیڑھ گھنٹہ تک جاری رہی جس سے