اصحاب احمد (جلد 8) — Page 126
۱۲۷ حضور زیادہ سے زیادہ ٹھہریں لیکن اس میں یہ بات بھی مرکوز تھی کہ اگر ایک ماہ کی منظوری نہ ملے گی تو ہفتہ عشرہ کی تو مل جائے گی لیکن میری یہ تدبیر کارگر نہ ہوئی۔اس پر خاکسار نے دوسرا خط لکھا که حضور کا ارشاد درست اور واجب اطاعت ہے۔دراصل ایک ماہ کا جو لکھا تھاوہ اس دستور کے پیش نظر لکھا تھا کہ کسی بڑی ہستی سے جب کوئی چیز مانگی جائے تو تھوڑی نہ مانگی جائے۔پس اب میں ایک ہفتہ کے قیام کی درخواست کرتا ہوں۔اس پر جواب ملا کہ ہم انشاء اللہ ایک دن کے لئے آئیں گے بشرطیکہ موٹر کا انتظام ہو۔مجھے اپنی نادانی کی وجہ سے موٹر کی کڑی شرط دیکھنا پڑی جبکہ موٹریں ان دنوں سارے ملک ہند میں ہی بہت کم تھیں۔ٹیکسیوں یا بسوں کا تو نام ونشان نہ تھا۔پھر پٹیالہ جو ریاست ہے اس میں تو اور بھی کمی تھی لیکن اس جگہ میں خدا تعالیٰ کے انعاموں کا ذکر کرتا ہوں کہ جو کاملین پر اور ان کے ادنیٰ خادموں پر ہوتے رہتے ہیں۔موٹر کا انتظام باعث اکرام آقا وغلام اب یہ خط موٹر کی شرط والا مجھے اس دن ملا جس سے ایک ہفتہ پہلے ہماری ریاست کے رئیس خلیفہ ہادی حسن صاحب اپنی بندوق کے پھٹ جانے کی وجہ سے زخمی ہو گئے۔یہ وزیر اعظم خلیفہ محمد حسن صاحب کے پوتے تھے۔جنہوں نے اشاعت براہین احمدیہ میں کافی اعانت کی تھی یہ سول سرجن صاحب کے منشاء سے اور اپنی شہرت کے باعث یہ عاجز علاج کے لئے مقرر ہو گیا تھا اور روزانہ دو وقت ان کی دوگھوڑوں والی گاڑی پر ان کے ہاں پہنچ کر پٹی کرتا تھا۔چنانچہ پہلے وقت پٹی کر کے گھر آیا تھا کہ حضور کا یہ خط ملا اور میں نے گاڑی بان کے ذریعہ خلیفہ صاحب کو کہلا بھیجا کہ دوسرے وقت میرے لے جانے کے لئے موٹر کار بھیجیں۔حسن اتفاق کہ اسی روز حضرت میاں عبداللہ صاحب سنوری بھی میرے ہاں بطور مہمان تشریف فرما تھے۔میں نے اول تو ان کو حضور کی طرف سے آمدہ خط دکھلایا اور پھر موٹر کے بارے میں ذکر کیا انہوں نے اڑھائی صد روپیہ کی اعانت اپنی طرف سے کرنے کے علاوہ چھتر روپے بابت خریداری دیگر افراد کی طرف سے بھی بھجوائے تھے۔(مؤلف)