اصحاب احمد (جلد 8)

by Other Authors

Page 121 of 185

اصحاب احمد (جلد 8) — Page 121

۱۲۲ محسن کو ہی ٹھہراتا ہوں ، میں دُعا کرتا ہوں کہ ” میرے مولیٰ تو میری اولا دکو بھی اس رنگ سے رنگین فرما اور پھر ان سب کو بھی جو مجھ سے محبت کرتے ہیں یہی نعمت عطا فرما۔آمین۔“ تکبر ایک مہیب دیو ہے جو مہ وشوں کو قریب نہیں آنے دیتا۔بھلا ایک نازنین ایک ایسے شخص کے پاس کب آنے لگی۔جو دعویٰ تو کرے اس کے عشق کا مگر اپنے پاس بیٹھائے بیٹھا ہو ایک دیو سیاہ روکو؟ یہی حال ہے اس حسینوں کے حسین کا ، نازکوں سے زیادہ نازک کا کہ وہ اس ولی کے قریب نہیں آتا جس پر تکبر کا بھوت سوار ہو۔تمام دیو کا موجود ہونا تو دور کی بات ہے اگر اس دیو مہیب کی ایک انگلی بھی رکھی ہوئی نظر آئے گی تو بھی وہ ایسے دل کے قریب نہ آئے گا۔پھر وہ حسینوں کا حسین یہ بھی پسند نہیں کرتا کہ اس کا کوئی بندہ اپنے پائے استقلال کو توڑ کر بیٹھ جائے ، اپنے چہرہ کو مایوسی کی گرد سے آلودہ کرلے اور اپنے ظن کو خراب کر کے مصفا ایمان ویقین کو پیشاب ملے دودھ کا سا بنا لے۔اس خدائے علیم و برتر نے انسان کو اس لئے نہیں پیدا کیا کہ وہ تکبر کے دیو کا پرستار بنے اور نہ اس لئے پیدا کیا ہے کہ وہ مایوسی اور بے یقینی کے جذام میں مبتلا ہو جائے۔اگر انسان خوش قسمت بننا چاہتا ہے تو ان دونوں ہلاکت خیز باتوں سے اپنے آپ کو بچائے رکھے۔البتہ جدو جہد سے حصولِ مدعا کے قانون پر عمل پیرا ہونا اور تساہل وغفلت شعاری سے اجتناب کرنا لازمی ہے ورنہ نیکیوں کی تو فیق چھن جاتی ہے حضرت صاحبزادہ صاحب کی زیارت ☆ اس دعا کا ایک اور عظیم الشان نتیجہ یہ نکلا کہ ایک اور شمع ہدایت کا پتہ لگ گیا اور اس شمع ہدایت کے اعلیٰ درجہ پر روشن ہونے کے وقت پر قریب پہنچنے کی بنیاد پڑ گئی۔وہ اس طرح پر کہ اس سفر ماہ اگست ۱۹۰۵ء کے دنوں میں میں اپنے ساتھیوں میاں خدا بخش صاحب مومن اور شیخ محمد افضل صاحب قریشی پٹیالوی کے ساتھ مہمانخانہ میں بیٹھا ہوا تھا تو ایک طالب علم کو دوسرے طالبعلم حضرت ڈاکٹر صاحب تحریر فرماتے ہیں کہ جو نصیحت میں نے تکبر کے بارے میں لکھی ہے یہ ایک خاص حالت میں لکھی گئی ہے۔جو حالت ہمیشہ میسر نہیں آتی۔(مؤلف)