اصحاب احمد (جلد 8) — Page 89
۹۰ ۱۸۹۴ء کے قریب گویا انیس سال کی عمر میں احمدی ہوئے۔آپ کی خراد کی دکان تبلیغ کا اڈہ تھی۔شیخ محمد کرم الہی صاحب کا سنہ بیعت ۱۸۹۱ء ہے۔محترم محمد یوسف کو جلسہ جو بلی ملکہ وکٹوریہ پر قادیان حاضر ہونے کا موقع ملا اور آپ کے ذریعہ احمدیت سامانہ اور پٹیالہ میں بھی پھیل گئی اور آپ کے رشتہ کے ماموں اور ان کے تین جواں سال لڑکے اور چھوٹے ماموں بھی احمد بیت میں داخل ہو گئے۔آپ کے ذریعہ آپ کے نھیال میں احمدیت خوب پھیلی۔حضرت اقدس کے عہد مبارک میں ہی چھ افراد احمدی ہو گئے تھے جن کے ذریعہ دیگر عزیزوں میں بھی احمدیت پھیل گئی۔جن کی تعداد اولاد در اولاد کی شکل میں اب ساٹھ ستر کے قریب ہوگی۔آپ نے ۱۹۲۱ ء یا ۱۹۲۲ء میں قریباً سنتالیس سال کی عمر میں پٹیالہ میں وفات پائی اور وہیں مدفون ہوئے۔آپ کی تعلیم اردو اور فارسی کی اچھی تھی۔مدرسہ میں تعلیم نہیں پائی تھی۔خراد کے کام میں خوب بابرکت رزق پاتے تھے۔آپ کی شادی ۱۸۹۲ء کے قریب ہوئی تھی۔اس شادی سے ایک لڑکا پیدا ہوا جو فوت ہو گیا۔اہلیہ کی وفات کے بعد آپ کی دوسری شادی آپ کی پھوپھی صاحبہ کی بیٹی مہر النساء صاحبہ سے ہوئی تھی۔جو غالباً ۱۹۱۴ء میں وفات پاگئیں۔موصوفہ کا اپنی ساس کے ہمراہ ۱۹۰۲ء کے جلسہ سالانہ پر حضرت اقدس کے گھر میں بطور مہمان خاص قیام کرنے کا ذکر او پر گذر چکا ہے۔موصوفہ بیان کرتی تھیں کہ اس قیام کے وقت سیدہ حضرت ام المومنین رضی اللہ عنہا بہت شفقت سے پیش آئیں۔حافظ ملک محمد صاحب محمد یوسف صاحب کی برکت سے ان کے چھوٹے بھائی حافظ ملک محمد صاحب کو ۱۸۹۶-۹۵ء میں قبول احمدیت کی توفیق ملی۔آپ بیان کرتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود کو پہلی بار۱۸۹۷ء میں جلسہ جو بلی ملکہ وکٹوریہ کے موقع پر میں نے دیکھا اور دیگر احباب میں شامل ہوکر مجھے حضور کے سامنے بیٹھ کر حضور کی معیت میں ایک وقت کا کھانا کھانے کا موقع ملا۔میں نے دیکھا کہ حضور نے بہت کم کھانا کھایا اور میں نے دیکھا کہ حضور پلاؤ کے چاولوں میں سے گوشت کی بوٹیاں چن چن کر خواجہ کمال الدین صاحب کو پیش کرتے جاتے تھے۔