اصحاب احمد (جلد 8) — Page 88
۸۹ کے والد پٹیالہ میں آکر آباد ہو گئے تھے۔حکیم صاحب نے ۱۹۰۲ء میں بیعت کی اور یوں تو ان کو کئی بار قادیان جانے کا موقع ملا۔مگر جن دنوں حضرت صاحبزادہ سید عبداللطیف صاحب شہید رضی اللہ تعالیٰ عنہ قادیان تشریف لائے ہوئے تھے ، ان ایام میں حکیم صاحب کو بہت دیر تک قیام کرنے کا موقع ملا۔ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب بیان کرتے ہیں کہ آپ نے قادیان سے واپس آ کر ہمیں سنایا کہ جب صاحبزادہ صاحب یکہ پر سوار ہونے لگے اور حضرت مسیح موعود کے ساتھ آخری مصافحہ کیا تو مصافحہ کی بجائے حضور کے قدموں میں گرنے لگے لیکن حضرت مسیح موعود نے صاحبزادہ صاحب کو ایسا کرنے سے روک دیا نیز یہ بھی بتایا کہ صاحبزادہ صاحب رخصت ہونے کے وقت زار زار روتے تھے کہ حضرت مسیح موعود آپ کے سر پر شفقت سے بار بار ہاتھ پھیرتے تھے۔ڈاکٹر صاحب بیان کرتے ہیں کہ حکیم صاحب قادیان سے پٹیالہ واپس آئے تو آپ کو حضرت مسیح موعود کا عاشق پایا گیا۔ان دنوں ہر ایک کو اپنے حلقہ میں تبلیغ کا جنون ہوتا تھا اور حضور پر کفر کے فتاویٰ کے باعث اکثر لوگ احمدیوں پر اعتراض کرتے تھے۔ایک دفعہ مستری محمد صدیق صاحب عرف حاجی سکنہ ڈھک بازار نے حکیم صاحب کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود کے حق میں کچھ نازیبا الفاظ بولے تو حکیم صاحب نے غصہ میں آکر ایک طمانچہ ان کے منہ پر مارا جو ایسا با برکت ثابت ہوا کہ تھوڑے ہی دنوں کے بعد حاجی صاحب نے بیعت کر لی اور پھر سلسلہ کے مخلص مرید بن گئے اور آخر دم تک احمدیت پر قائم رہے۔پہلے تو صرف نام کے حاجی تھے اور پھر آپ کو مع اہلیہ صاحبہ کے حج کرنے کی توفیق ملی اور بہشتی مقبرہ ربوہ میں دفن ہیں۔حکیم صاحب نے ۱۹۲۷ء میں بمقام قادیان وفات پائی اور بہشتی مقبرہ قادیان میں دفن ہوئے۔محمد یوسف صاحب رحیم بخش صاحب کے بڑے فرزند محمد یوسف صاحب غالبا ۱۸۷۵ء میں پیدا ہوئے تھے اور آپ کو اپنے خاندان میں سب سے اول احمدیت قبول کرنے کی سعادت حاصل ہوئی۔آپ