اصحاب احمد (جلد 8) — Page 76
فرمایا اور حضرت رسول کریم اور حضرت مسیح موعود کا اسوہ حسنہ اس بارہ میں بیان فرمایا اور پھر بچہ کے لئے دعا فرمائی اور مجھے حکم دیا کہ وطن جا کر بیوی بچوں کو قادیان لے آؤں۔چنانچہ چند دن بعد جب میں وطن پہنچا تو دیکھا کہ بچہ کا کان بالکل چنگا ہو گیا ہے۔میں نے اپنی بیوی سے پوچھا کہ اسے شفا کیوں کر ہوگئی ہے۔تو انہوں نے بتایا کہ ڈاکٹر کا علاج بند کر دیا تھا۔تو یہ خود بخود ہی ٹھیک ہو گیا۔گویا یہ حضور کی دعا کا اثر تھا۔بعد ازاں میں نے بال بچوں کو کبھی بھی زیادہ عرصہ کے لئے جدا نہیں کیا۔(۴) ۱۹۰۹ء کے موسم برسات میں ایک دفعہ لگا تار آٹھ روز بارش ہوتی رہی جس سے قادیان کے بہت سے مکانات گر گئے۔حضرت نواب محمد علی خان صاحب مرحوم نے قادیان سے باہرنئی کو ٹھی تعمیر کی تھی۔وہ بھی گر گئی۔آٹھویں یا نویں دن حضرت خلیفتہ المسیح اول نے ظہر کی نماز کے بعد فر مایا کہ میں دعا کرتا ہوں آپ سب لوگ آمین کہیں۔دعا کرنے کے بعد آپ نے فرمایا کہ میں نے آج وہ دُعا کی ہے جو حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ساری عمر میں صرف ایک دفعہ کی تھی۔یہ دعا بارش کے بند ہونے کی کی تھی۔دعا کے وقت بارش بہت زور سے ہورہی تھی۔اس کے بعد بارش بند ہوگئی اور عصر کی نماز کے وقت آسمان بالکل صاف تھا اور دھوپ نکلی ہوئی تھی۔(۵) چوہدری حاکم دین صاحب مرحوم کی بیوی کو پہلے بچہ کی پیدائش کے وقت سخت تکلیف ہوئی۔آپ رات کے گیارہ بجے حضرت خلیفہ اسیح اوّل کے گھر گئے۔آپ نے چوکیدار سے پوچھا کہ کیا میں حضور کو اس وقت مل سکتا ہوں۔اس نے نفی میں جواب دیا لیکن اندرون خانہ میں حضور نے آواز سُن لی اور پوچھا کون ہے۔چوکیدار نے عرض کی کہ چوہدری حاکم دین صاحب ملازم بورڈنگ ہیں۔فرمایا آنے دو۔آپ اندر چلے گئے اور زچگی کی تکلیف کا ذکر کیا۔حضور اندر جا کر ایک کھجور لے آئے اور اس پر کچھ پڑھ کر پھونکا اور چوہدری صاحب کو دے کر فرمایا کہ یہ اپنی بیوی کو کھلا دیں اور جب بچہ پیدا ہو جائے تو مجھے بھی اطلاع دیں۔چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا۔تھوڑی ہی دیر کے بعد بچی پیدا ہوگئی۔چوہدری صاحب نے سمجھا کہ اب دوبارہ حضور کو جا کر جگانا مناسب نہیں اس لئے وہ سور ہے۔صبح کی اذان کے وقت آپ صحابی تھے۔بہشتی مقبرہ ربوہ میں دفن ہوئے۔(مؤلف)