اصحاب احمد (جلد 8)

by Other Authors

Page 72 of 185

اصحاب احمد (جلد 8) — Page 72

۷۲ فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَهُ يُؤْمِنُونَ “ میں فوراوا پس آیا اور بیعت کر لی۔(۲) جب بورڈ نگ تعلیم الاسلام ہائی سکول تیار ہورہا تھا تو اس وقت میں نے ایک بوڑھے زمیندار کو اس کے صحن میں دیکھا۔میں نے اس سے پوچھا کہ آپ یہاں کیا کر رہے ہیں۔اس نے جواب دیا کہ میں اپنے پیر کے مکانات دیکھ رہا ہوں۔میں نے پوچھا کہ آپ احمدی ہیں۔اس نے جواب دیا کہ حضرت مرزا صاحب کے خاندان میں ہمیشہ ایک بزرگ ہوتارہا ہے اور ہم ان کے خاندان کے پرانے مرید ہیں۔میں نے اس سے پوچھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق کوئی بات سناؤ۔اس نے کہا کہ جب آپ کے بڑے بھائی کی شادی ہوئی تھی۔آپ کے والد صاحب نے بہت سے بکرے خریدے تھے۔ان کو میرا باپ چرایا کرتا تھا۔ایک دن میں بھی اپنے باپ کے ساتھ ان بکروں کے پاس کھڑا تھا آپ تشریف لائے۔میرے پاؤں میں جوتا نہ تھا۔آپ نے فرمایا کہ تم جوتا کیوں نہیں پہنتے۔میں نے کہا کہ میرا جوتا نہیں ہے۔آپ نے میرے باپ کو فرمایا کہ اس کو جوتا خرید دیں۔بیچارے کو کانٹے لگتے ہوں گے۔میرے باپ نے کہا کہ میرے پاس پیسے نہیں ہیں۔آپ یہ جواب سُن کر تھوڑی دیر خاموش رہے۔پھر اپنی جوتی کا ایک پاؤں اتار کر مجھے فرمایا کہ اسے پہنو۔جب میں نے پہنا تو وہ مجھے پورا آ گیا۔آپ نے دوسرا جوتا بھی اتار کر مجھے دے دیا اور آپ ننگے پاؤں گھر واپس چلے گئے۔(۳) ایک دفعہ سیٹھ کنہیا لال نے مجھے بتایا تھا کہ میں نے حضور کو ایک دفعہ بٹالہ جانے کے لئے یکہ کرایہ پر کر دیا تھا۔جب آپ نہر کے پل پر پہنچے تو آپ کو یاد آ گیا کہ آپ ایک کتاب لانی بھول گئے ہیں۔آپ خود دو ہیں ٹھہر گئے اور نوکر کو کتاب لانے کے لئے واپس بھیج دیا۔یکہ والے کو کوئی سواری مل گئی۔وہ آپ کو چھوڑ کر چلا گیا۔مجھے جب خبر ملی تو میں نے اس ٹانگہ والے کو مارا کہ وہ کیوں آپ کو چھوڑ کر چلا گیا تھا۔جب آپ واپس تشریف لائے اور آپ کو میرے یکہ والے کو مارنے کا حال معلوم ہوا تو آپ نے مجھے بلا کر کہا کہ تم نے اس کو مارنے میں غلطی کی ہے۔اس کا کوئی قصور نہ تھا۔میری اپنی غلطی تھی کہ میں کتاب بھول گیا اور مجھے فرمایا کہ اس سے جا کر معافی مانگو۔میں معافی مانگنے سے انکار کرتا تھا اور آپ معافی مانگنے کے لئے اصرار کرتے تھے “