اصحاب احمد (جلد 8) — Page 65
آپ کی قبولیت دعا کے بعض واقعات یہاں درج کئے جاتے ہیں کہ یہ امر بھی روح پرور۔اور موجب از دیا دایمان ہے۔آپ بیان فرماتے ہیں:۔(۱) بیعت کے تھوڑے عرصہ بعد کی بات ہے کہ میں ڈسکہ کے مڈل سکول میں ملازم تھا اور وہاں سے ہرا تو ار کو اپنے گاؤں آ جاتا تھا۔ایک دفعہ شدت گرما کے باعث میں نے گھر میں کہا کہ میں آئندہ اتوار نہیں آؤں گا۔ہمارے گاؤں میں ایک میاں امام الدین حکیم امام مسجد اور میرے دوست تھے۔ہفتہ کی صبح کو میں نے خواب دیکھا کہ وہ فوت ہو گئے ہیں اور میری خواب میں جب کسی مرد کو مردہ یا بیمار دیکھوں تو مراد اس کی بیوی کی تکلیف ہوتی ہے۔مجھے یقین تھا کہ میری خواب کچی ہے۔میں شام کو گاؤں چلا گیا۔مجھے خدا تعالیٰ نے یہ علم دیا ہوا ہے کہ میری کونسی خواب کچی ہوتی ہے۔استفسار پر میں نے اپنی مرحومہ بیوی کو بتایا کہ مجھے خواب میں اہلیہ میاں امام الدین کی علالت کا علم ہوا تھا۔اس لئے بیمار پرسی کے لئے آ گیا ہوں۔انہوں نے ہنس کر کہا کہ وہ تو بالکل اچھی بھلی ہے۔مسجد میں بعد نماز مغرب مولوی صاحب موصوف سے بھی ملاقات ہوئی اور ان کے پوچھنے پر بھی میں نے یہی وجہ بتائی۔تو انہوں نے بھی یہی کہا کہ میری بیوی فی الحال تو اچھی ہے۔بوقت عشاء وہ میرے گھر پر آئے۔میں نے پوچھا کہ آپ کی بیوی گاؤں ہی میں ہے اپنے والدین کے ہاں تو گئی ہوئی نہیں۔تو مولوی صاحب نے مسکرا کر کہا کہ یہیں ہے۔اگر تم رہنے دو گے۔ہم مسجد میں پہنچے موصوف نے نماز شروع کی۔میں وضو کر رہا تھا کہ ان کا بھائی دوڑتا ہوا آیا کہ بھائی کوشش پڑ گیا ہے اور دندن پڑ گئی ہے جو کھلتی نہیں۔چنانچہ ان کونماز تو ڑ کر جانا پڑا۔میں بھی نماز پڑھ کر وہاں پہنچا۔ابھی تک حالت بدستور تھی۔چنانچہ وہاں میں نے دو نفل ادا کر کے دعا کی کہ اے مولا کریم تو اپنے فضل سے ہماری مددکر اور اسے آرام دے۔میرے دل میں ڈالا گیا کہ اس کے گلے پر تیل مل دیا جائے۔چنانچہ ایسا کرنے سے اسے آرام آگیا۔(۲) میاں امام الدین مذکور کو ایک دفعہ کھانسی ہو گئی اس نے بڑے بڑے طبیبوں سے علاج کرایا۔وہ خود بھی طبیب تھا لیکن اسے آرام نہ آیا۔وہ ایک دن میرے پاس آ کر رو پڑا اور کہا