اصحاب احمد (جلد 8)

by Other Authors

Page 130 of 185

اصحاب احمد (جلد 8) — Page 130

۱۳۱ ایک اور موقع خدمت گذاری اپریل ۱۹۱۸ء میں حضور کا ارشاد پہنچا کہ کچھ بل بھیجد میں مجھے پیچش ہے۔جس کے لئے بل مفید ہوتی ہے۔( بل ایک پھل ہوتا ہے جس میں سے بل گری نکلتی ہے۔) یہ ارشاد دفتر پرائیویٹ سیکرٹری کے ذریعہ بذریعہ خط پہنچا تھا۔میں اس وقت بازار چلا گیا اور بل خرید لئے۔چونکہ یہ بھاری ہوتی ہیں۔بذریعہ ڈاک نہ بھیجے جاسکتے تھے۔البتہ پسنجر ٹرین میں پارسل کئے جاسکتے تھے۔اس طرح بھیجنے کی صورت میں کم از کم پانچ دن تک حضور کو مل سکتے۔سو میں نے اپنے دوست میاں خدا بخش صاحب مومن کو بل دے کر اسی روز قادیان کو روانہ کر دیا۔جب انہوں نے قادیان پہنچ کر بل پیش کئے تو حضور بہت خوش ہوئے خصوصاً اس وجہ سے کہ اگر کسی آدمی کے ہاتھ نہ بھجوائے جاتے تو اول تو حضور کو ملتے ہی نہ۔اگر ملتے تو کم از کم پندرہ دن کے بعد۔کیونکہ اگلی صبح حضور لاہور کو روانہ ہورہے تھے جہاں سے ایک دن بعد حضور نے ایک ڈیڑھ ماہ کے لئے بمبئی چلے جانا تھا۔خدا بھلا کرے خدا بخش صاحب مومن کا کہ انہوں نے موقع شناسی سے کام لے کر مجھے بذریعہ تا راطلاع دے دی کہ حضور لا ہور جارہے ہیں۔اگر ہو سکے تو ملاقات کے لئے لاہور پہنچ جاؤ چونکہ قادیان پہنچ کر ملاقات کرنے میں زیادہ رخصت لینا پڑتی تھی۔لاہور جانے پر صرف ایک دن کی رخصت درکار تھی۔میں لاہور چلا گیا اور شرف ملاقات حاصل کیا اور میرے مولیٰ نے مجھے توفیق دی کہ میں اپنے آپ کو مجوزہ سفر میں خدمت کے لئے پیش کروں جس پر حضور نے ارشاد فرمایا کہ آپ ایک مہینہ کی رخصت منظور کروالیں۔اگر ہمیں ضرورت ہوئی تو تار بھیج کر بمبئی بلالیں گے لیکن بوجہ اس کے کہ حضور کے ہمراہ حضرت ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب تھے اور غالباً حضرت ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب بھی تھے۔مجھے بلائے جانے کی ضرورت پیش نہ ہوئی۔)