اصحاب احمد (جلد 8) — Page 122
۱۲۳ سے کہتے ہوئے سنا کہ میاں صاحب یعنی حضرت صاحبزادہ مرزا محمود احمد صاحب کشتی چلانے کے لئے آگئے ہیں یعنی ڈھاب میں سیر کرنے کے لئے۔یہ سن کر میرے دل میں تحریک پیدا ہوئی کہ چلو میاں صاحب کو دیکھ لیں۔میری تحریک پر خدا بخش صاحب تو میرے پیچھے آگئے مگر دوسرے ساتھی نے کچھ التفا نہ کی۔میں حضرت میاں صاحب کو ادب کی وجہ سے ذرا فاصلہ پر سے دیکھ کر چلا آیا۔کمزوری طبع نے مجھے اس قدر بھی اجازت نہ دی کہ ذرا قریب ہو کر دیکھ لیتا یا کچھ باتیں سن لیتا۔حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کی جذب اور ذرہ سی محبت کے اظہار کو اللہ تعالیٰ کیونکر قبول کر لیتا ہے۔اس سے ظاہر ہے کہ میری ہجرت کے تھوڑے عرصہ بعد میاں خدا بخش صاحب کو بھی ہجرت کی توفیق مل گئی لیکن تیسرے ساتھی کو نہیں اور مجھے حضور کے ساتھ کشتی کی سیر کے بھی مواقع حاصل ہوئے۔انجمن تشحید الاذبان ۱۹۰۶ء میں حضرت میاں صاحب نے ایک انجمن بنائی جس کا نام حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے انجمن تفخیذ الا ذہان رکھا اور میں بھی اس میں شامل ہو گیا۔۱۹۰۷ء کے جلسہ سالانہ پر اس کے اجلاس عام میں مجھے آپ کے قریب بیٹھنے کا موقع ملا۔ایک مسکین اللہ تعالیٰ کے چھوٹے چھوٹے فضلوں کو بھی یا درکھتا ہے۔اسی طرح مجھے یہ امر بھول نہیں سکتا بلکہ میں اسے فخر سے یادرکھتا ہوں کہ ایجنڈے کے ایک امر کے متعلق میری وہی رائے تھی جو حضرت صاحبزادہ صاحب نے بعد میں منظور کی۔اس عظیم الشان کی رائے جو بعد میں مصلح موعود ہونے والا تھا۔گو اس وقت نورالدین اپنی نورانیت سے بے روشنی اور کم روشنی والوں کو راستہ دکھلا رہا تھا لیکن شمع نمبر۲ اپنی خاص چمک کے ساتھ عشق مزاج لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرتی چلی جاتی تھی۔فہم رسا رکھنے والے احباب جہاں نورالدین سے نور پانے کے لئے قادیان جاتے تھے۔وہاں اس شمع سے بھی نفع اندوز ہونے کی کوشش کرتے۔مگر یہ موقع تو صاحب حیثیت اور صاحب علم لوگوں کو ہی حاصل ہو سکتا تھا جن کو وقت نکالنے اور سفر کے اخراجات برداشت کرنے کی