اصحاب احمد (جلد 8)

by Other Authors

Page 109 of 185

اصحاب احمد (جلد 8) — Page 109

11۔جب موچی دروازہ میں سے گذر رہا تھا تو وہاں کے لوگوں کوطنز کے طور پر حضور کی وفات کا ذکر کرتے سنا۔جس سے معلوم ہو گیا کہ واقعی یہ خبر درست ہے۔آخر جوں توں کر کے جب ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ صاحب کے مکان پر جو خواجہ صاحب کے مکان سے ملحق تھا پہنچا تو معلوم ہوا کہ حضور کی وفات ہوگئی ہے۔جو دس بجے کے قریب ہوئی تھی۔حضور رات کو اسہال کی مرض میں مبتلا ہوئے اور باوجود ہر طرح کے علاج کے اس کی شدت بڑھ گئی اور آخر موت پر منتج ہوئی۔ان الله و انا اليه راجعون حضرت اقدس نے انبیاء کی وفات پر جو حالت مومنوں اور مخالفوں کی ہوتی ہے۔الوصیت میں اس کا نقشہ ان الفاظ میں کھینچا ہے :- كتب الله لا غلبن انا ورسلى ( یعنی خدا نے لکھ رکھا ہے کہ وہ اور اس کے رسول غالب رہیں گے ) اور غلبہ سے مراد یہ ہے کہ جیسا کہ رسولوں اور نبیوں کا یہ منشاء ہوتا ہے کہ خدا کی حجت زمین پر پوری ہو جائے اور اُس کا مقابلہ کوئی نہ کر سکے اسی طرح خدا تعالیٰ قومی نشانوں کے ساتھ ان کی سچائی ظاہر کر دیتا ہے اور جس راستبازی کو وہ دنیا میں پھیلانا چاہتے ہیں اس کی تخمریزی انہی کے ہاتھ سے کر دیتا ہے لیکن اس کی پوری تحمیل ان کے ہاتھ سے نہیں کرتا بلکہ ایسے وقت میں ان کو وفات دے کر جو بظاہر ایک ناکامی کا خوف اپنے ساتھ رکھتا ہے مخالفوں کو ہنسی اور ٹھٹھے اور طعن اور تشنیع کا موقعہ دے دیتا ہے اور جب وہ ہنسی ٹھٹھا کر چکتے ہیں تو پھر ایک دوسرا ہاتھ اپنی قدرت کا دکھاتا ہے اور ایسے اسباب پیدا کر دیتا ہے جن کے ذریعہ سے وہ مقاصد جو کسی قدر نا تمام رہ گئے تھے اپنے کمال کو پہنچتے ہیں۔مکرم ڈاکٹر صاحب بیان کرتے ہیں کہ حضرت صاحب کا قادیان سے لاہور پہنچنے پر اوّل خواجہ صاحب مرحوم کے مکان پر قیام ہوا تھا اور زیادہ دن اسی مکان میں ٹھہرے تھے۔لیکن وفات سے صرف دو تین روز قبل حضور ڈاکٹر محمد حسین شاہ صاحب کے مکان پر سکونت پذیر ہو گئے تھے اور اسی مکان میں وفات پائی تھی۔(مؤلف)