اصحاب احمد (جلد 8)

by Other Authors

Page 97 of 185

اصحاب احمد (جلد 8) — Page 97

۹۸ ہمارے قیام کے دنوں میں حضور کو تازہ الہام ہوا فَزِعَ عِيْسَىٰ وَ مَنْ مَّعَهُ ۱۵۔یہ الہام مجھے اسی وقت کا یاد ہے۔اس کے دواڑھائی ماہ بعد حضرت مولوی عبدالکریم صاحب کا انتقال ہوا تو حضور نے اس الہام کو اس سانحہ غم آلود کی خبر قرار دیا ہے ہمارے قیام قادیان کے دنوں میں ایک جمعہ بھی آیا۔اس وقت مسجد مبارک بہت چھوٹی تھی۔ایک صف میں صرف پانچ چھ آدمی کھڑے ہو سکتے تھے۔حضور نے نماز جمعہ مسجد مبارک میں ادا فرمائی اور بہت سے احباب نے جن میں زیادہ تر مہمان تھے اور اس مسجد میں سما سکتے تھے۔حضور کی معیت میں نماز جمعہ اس مسجد میں ادا کی۔خاکسار بھی ان میں شامل تھا۔بقیہ احباب نے مسجد اقصیٰ میں نماز جمعہ ادا کی۔مسجد مبارک میں نماز جمعہ حضرت مولوی عبدالکریم صاحب نے پڑھائی۔اس روایت میں محترم ڈاکٹر صاحب یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ :- ” ہمارے دوران قیام میں جو کہ دس بارہ روز کا عرصہ تھا بعض اور واقعات بھی ہوئے۔ان میں سے ایک حضرت صاحب کے سر پر چوٹ لگنے کا واقعہ ہے * * حضور وضوکر کے اٹھے تھے کہ الماری کے کھلے ہوئے تختہ سے سر پر چوٹ آئی اور کافی گہرا زخم ہو گیا جس سے خون جاری اس الہام کے سنائے جانے کی تاریخ ۱۲ را گست مرقوم ہے اور یہ کہ حضرت مولوی صاحب کی وفات سے پوری ہوئی۔جواا راکتو برکو واقع ہوئی۔(مؤلف) لله حمير الحکم مورخہ ۸۵-۸-۲۴ میں مرقوم ہے کہ سر میں الماری کے تختہ سے چوٹ ۲۰ را گست کو لگی تھی (صاک ۳) مؤلف بقیہ حاشیہ مدت تک رہ کر اور ویدوں کے خوب مطالعہ کرنے کے بعد اور آریوں کے حالات سے اچھی طرح واقف ہونے کے بعد آخر بعمر پچاس برس مشرف باسلام ہوئے ہیں اور اب حضرت مسیح موعود کی بیعت میں داخل ہوئے ہیں۔شیخ صاحب سنسکرت کے بڑے فاضل ہیں۔( الحکم ۵۰-۸-۷ اص ۷ ) نیز ص ۳/۴ پہ بھی ان کا ذکر ہے۔نیز بدرمورخہ ۱۴/اگست ۱۹۰۵ء میں ۱۳ اگست کی ڈائری میں گیا کے اس نو مسلم کا حضور سے ایک مسئلہ کے متعلق استفسار کا ذکر آتا ہے۔