اصحاب احمد (جلد 8)

by Other Authors

Page 77 of 185

اصحاب احمد (جلد 8) — Page 77

22 وہ حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے۔حضرت مولوی صاحب اس وقت وضو کر رہے تھے۔چوہدری صاحب نے عرض کی کھجور کھلانے کے بعد بچی پیدا ہو گئی تھی۔آپ نے فرمایا کہ بچی پیدا ہونے کے بعد تم میاں بیوی آرام سے سور ہے۔اگر مجھے بھی اطلاع دے دیتے تو میں بھی آرام سے سورہتا۔میں تمام رات تمہاری بیوی کے لئے دعا کرتا رہا ہوں۔“ (۶) ایک دن ایک یتیم لڑکے سراج دین نامی نے ایک جولا ہے کا تانا خراب کر دیا۔جولاہا تا نالے کر حضرت خلیفہ اسیح اول کے پاس آیا اور آپ سے نقصان کے عوض پانچ روپیہ وصول کئے۔یہ لڑکا بورڈنگ میں داخل تھا۔حضور نے مجھے بلا کر فرمایا کہ سراجدین نے جولا ہوں کا تانا خراب کر دیا ہے۔اسے اس کی سزا دو۔میں نے عرض کی بہت اچھا۔جب میں دروازہ تک پہنچا تو آپ نے مجھے واپس بلایا اور فرمایا کہ سراج دین یتیم لڑکا ہے اس کو جھڑ کنا نہیں۔میں نے عرض کیا بہت اچھا اور واپس آکر میں نے اسے یہ سزا دی کہ آٹھ دن تک وہ روزانہ ایک صفحہ خوشخط لکھ کر مجھے دکھایا کرے۔“ (۷) ایک دفعہ آپ نے اپنے بڑے لڑکے میاں عبدالحئی مرحوم کو بورڈنگ میں داخل کرا دیا اور مجھے لکھ بھیجا کہ میں غریب آدمی ہوں۔اس لئے عزیز عبد الحئی کے خرچ میں ھتے الوسع کفایت کرنے کی کوشش کریں۔میں نے حاضر ہو کر عرض کی کہ اگر عبدالحئی کا کھانا گھر سے آجایا کرے تو خرچ میں بہت تخفیف ہو سکتی ہے۔آپ نے فرمایا کہ میرے پاس کوئی نوکر نہیں ہے۔اس لئے کھانا بھیجنا بہت مشکل ہے۔نیز میری بیوی اکثر بیمار رہتی ہے۔اس لئے وقت کی پابندی بھی مشکل ہے۔اس لئے بورڈنگ کے خرچ میں ہی تخفیف کریں۔“ حضور نے اپنے بچہ کے متعلق کفایت شعاری کے لئے اس قدر تا کید فرمائی۔حالانکہ اس وقت بورڈ نگ ہاؤس میں پانچ یا چھ یتیم ایسے تھے جن کا خرچ آپ اپنی گرہ سے دیتے تھے اور ان کے خرچ میں تخفیف مد نظر رکھنے کے لئے آپ نے کبھی بھی نہیں فرمایا تھا۔“ ”میاں عبدالحئی کی تعلیم کی پہلی ماہ کی رپورٹ لے کر میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا جس میں میں نے لکھا تھا کہ عزیز عبد الحئی اس ماہ میں با قاعدہ نمازیں پڑھتا رہا ہے۔آپ نے رپورٹ پڑھ کر اپنی جیب سے ایک روپیہ نکال کر دیا اور فرمایا کہ رسول کریم نے فرمایا ہے کہ جب