اصحاب احمد (جلد 8) — Page 42
۴۲ علیہ السلام سے اس بارہ میں استفسار کرنا چاہئے۔مبادا یہ امر حضور کے منشاء کے مخالف ہو۔چنانچہ حضور کی طرف سے جواب موصول ہوا کہ :- اوّل تصور مخلوق سے بجز شرک کے اور کوئی نتیجہ نہیں۔دوم۔اللہ تعالیٰ کے ذکر کے لئے اللہ کا اسم ہی کافی ہے۔سوم۔درود وہ پڑھنا چاہئے جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت کی مہر ہو اور سب سے بہتر وہ درود ہے جو اپنی فضیلت کی وجہ سے نماز میں شامل ہے۔چنانچہ حضرت مولوی صاحب حضور علیہ السلام کے ارشاد پر عمل پیرا ہوئے جس سے اللہ تعالیٰ کی عظمت کا نقش آپ کے دل و دماغ پر مستول ہوا اور دعاؤں اور جہاد فی سبیل اللہ اور تذلل اور قربانی اور خلوص کا اعلیٰ نمونہ دکھانے کی وجہ سے قبولیت دعا کے ہزار ہا ایمان افزا اور روح پرور واقعات آپ کی زندگی میں ظاہر ہوئے۔جن سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، حضرت مسیح موعود و خلفائے کرام اور اسلام واحمدیت کے فیوض و برکات وصداقت اور زندہ خدا کی زندہ تجلیات کے ثبوت ملتے ہیں۔سچ ہے۔عاقل آن باشد که جوید یار را و از تذلل ها بر آرد کار را آپ کو احمدیت کی برکات کے باعث اللہ تعالیٰ نے ایک درجن بار اپنی رویت سے اور تمہیں دفعہ کے قریب آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت سے مشرف فرمایا اور آپ پر مستقبل قریب و بعید کے بہت سے اسرار ظاہر کئے۔