اصحاب احمد (جلد 8)

by Other Authors

Page 34 of 185

اصحاب احمد (جلد 8) — Page 34

۳۴ امراض و آلام کا شکار مبلغ اب ہم ایک ایسے مبلغ کا ذکر سُناتے ہیں جو صبر کے لحاظ سے اس زمانہ کا ایوب ہے۔۱۹۱۹ء کا واقعہ ہے کہ خاکسار کو ایک مبلغ کے ساتھ تبلیغی سفر کرنا پڑا۔یہ سفر بہت طول طویل تھا۔میں اس وقت ایک ناتجربہ کار نو جوان تھا۔میرا ساتھی ایک عالم فاضل اور متقی اور باخدا انسان تھا۔راستے میں دہلی کے اسٹیشن پر میرے ساتھی کو اعصابی دورے شروع ہو گئے۔مجھ سے ان کی حالت دیکھی نہ جاتی تھی۔ان کے پٹھے بیچے جاتے تھے اور کبھی یہ عصبی دردسر اور گردن اور پٹھوں پر ہوتا اور کبھی جبڑوں کے پٹھوں پر کبھی کندھے اور باز و پر اور کبھی کسی اور جگہ میں۔میں حیران تھا وو کہ ایسی حالت میں یہ تبلیغ کیا کریں گے؟ رات کے دس بجے کے قریب کا انپور پہنچے مولانا کو شدید بخار ہو گیا تھا۔رات کو خان بہادر محمد حسین صاحب حج کی کوٹھی تلاش کی مگر نہ ملی۔پریشان ہو کر ایک سرائے میں پناہ گزین ہوئے۔گرمی کا موسم تھا۔سرائے کے لوگوں سے اندیشہ تھا کہ چوری نہ کریں۔اس لئے کمرے کے اندر رات گزاری، مچھروں نے بری طرح کاٹا۔ادھر مولانا کو شدت بخار سے ہوش نہ رہا۔صبح بمشکل کوٹھی کا پتہ ملا اور ٹانگہ پر وہاں گئے۔اس بیماری کی حالت میں کوٹھی پر لوگ ملنے آئے۔ہمارا مبلغ اعصابی دردوں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے تبلیغ کرتا رہتا۔کبھی پگڑی سے سر اور منہ کو باندھتا اور کبھی ٹانگوں پر پگڑی باندھتا اور کبھی بازوؤں پر۔انہی دنوں اہل حدیث کا نفرنس کانپور میں ہو رہی تھی۔مولوی ثناء اللہ صاحب بھی وہاں موجود تھے اور مولوی ابراہیم صاحب سیالکوٹی بھی تھے۔کانفرنس میں ثناء اللہ نے ہمارے سلسلے کو چیلنج دیا اور ہمارے مبلغ کا نام لے کر چیلنج دیا۔میں نے کہا کہ وقت دوتا کہ میں ان کو لے آؤں۔