اصحاب احمد (جلد 8) — Page 23
۲۳ آپ لاہور پہنچ کر جماعت کو سنبھالیں۔مولوی محمد علی صاحب خیالات فاسدہ سے نقصان پہنچا رہے ہیں۔آپ وہاں پہنچے۔غیر مبایعین کو معلوم ہوا کہ آپ احمد یہ بلڈنگکس میں جمعہ پڑھانے آئیں گے۔چنانچہ ڈاکٹر سید محمدحسین شاہ صاحب نے نوٹس کے طور پر اطلاع دی کہ یہاں کوئی مسجد نہیں بلکہ ہمارا ذاتی مکان ہے۔خطبہ و نماز مولوی محمد علی صاحب پڑھائیں گے۔آپ کو پڑھانے کی اجازت نہیں۔مولانا راجیکی صاحب نے لکھا کہ مجھے خطیب و امام لا ہور میں حضرت خلیفہ اول نے مقرر کیا ہے۔چنانچہ مبایعین کے ساتھ وہاں پہنچے۔ڈاکٹر صاحب درشت کلامی سے پیش آئے اور کہا کہ یہاں کوئی مسجد نہیں۔یہ ہماری جائیداد ہے۔ہم اپنے مکان پر کسی کو نماز نہیں پڑھنے دیں گے۔چنانچہ ایسی صورت میں کہ غیر مبایعین اس کے مسجد ہونے سے انکاری ہیں۔مبایعین کے مشورہ سے مبارک منزل احاطہ حضرت میاں چراغ دین صاحب میں نمازیں ادا ہونے لگیں۔چنانچہ حضرت حکیم محمد حسین صاحب قریشی اور حضرت مولانا راجیکی صاحب کی تحریکوں سے یہاں مسجد تعمیر ہوگئی جوقریباً چالیس سال سے ایک مرکز کا کام دے رہی ہے۔اور بیشمار دفعہ حضرت خلیفہ اسی الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے اس میں خطبات دیئے ہیں۔جنوری ۱۹۱۹ء میں حضرت مولوی صاحب نے رویا میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ایک او نے سٹیج پر دیکھا کہ آپ کے سامنے مولوی محمد علی صاحب کھڑے ہیں اور مولانا راجیکی صاحب نبوت حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر نہایت مدلل تقریر کر رہے ہیں۔جس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام بہت ہی خوش ہو رہے ہیں۔پھر ایک رات رؤیا میں دیکھا کہ مولا ناراجیکی صاحب کہتے ہیں کہ آؤ میں حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کی تعریف قرآن مجید سے دکھاؤں اور پھر یہ الفاظ دکھائے الذين يخالفون الذين لهم ثناء من الله لا يهتدون جس کا مطلب یہ سمجھایا گیا کہ الذين يخالفون کے مصداق مولوی محمد علی صاحب اور ان کے رفقاء ہیں اور الذين لهم ثناء من الله کے مصداق حضرت خلیفہ ثانی ایدہ اللہ مع خاندان و احباب ہیں اور مولانا راجیکی صاحب رؤیا میں کہتے ہیں کہ لفظ ثناء میں محمود کے الہامی نام کی طرف اشارہ ہے۔ہے