اصحاب احمد (جلد 8)

by Other Authors

Page 22 of 185

اصحاب احمد (جلد 8) — Page 22

۲۲ جانشین ہو گا۔ان ایام میں اس فتنہ کی شدت کا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد ایدہ اللہ تعالیٰ کے مولوی صاحب کے نام مکتوب مرقومہ تمبر ۱۹۱۳ ء کی ذیل کی عبارت سے بھی علم ہوتا ہے:۔میں آپ کے لئے بہت دعا کرتا ہوں اور ایک عرصہ سے برابر کر رہا ہوں بلا ناغہ اور لاہوری فتنہ بیدار ہورہا ہے اور آگے سے بہت سختی سے۔گویا کوشش کی جاتی ہے کہ اس کام کو ملیا میٹ کر دیا جائے جو حضرت صاحب نے شروع کیا تھا۔آہ۔آہ۔آہ۔اللہ تعالیٰ ہی رحم کرے اور فضل کرے۔اب کہ جماعت کا کثیر حصہ ان کے ساتھ ہے میری نسبت طرح طرح کی افواہیں مشہور کی جاتی ہیں۔پیغام صلح نے الفصل پر اعتراض بھی کرنے شروع کر دیئے ہیں۔خلیفہ امسیح کے حکم سے ان سے جواب بھی مانگا ہے۔مداہنت اور ملمع سازی کو کام میں لایا جاتا ہے۔خدا تعالیٰ رحم کرے۔میں ایک کمزور انسان ہوں۔اس قدر فساد کا روکنا میرے اختیار سے باہر ہے۔خدا کا ہی فضل ہوتو فتنہ دور ہو۔یہ وقت ہے کہ جماعت کے مخلص دعاؤں سے کام لیں اور اللہ تعالیٰ کے فضل کے طالب ہوں۔“ تائید خلافت ثانیه حضرت خلیفہ اول کے وصال کے وقت حضرت مولوی صاحب شدید علیل تھے۔بعد میں اپنے سسرال چلے گئے۔غیر مبایعین کی لاہور میں سرگرمیاں بہت بڑھ گئیں اور مولوی محمد علی صاحب بھی قادیان ترک کر کے لاہور پہنچ گئے۔ان دنوں ایک بد بخت عبدالمجید نامی نے پیغام صلح میں یہاں تک لکھ دیا کہ (معاذ اللہ ) مولانا راجیکی صاحب مثیل ڈوئی ہیں۔اب و ہیں مفلوج ہو کر ختم ہوں گے اور لاہور واپس نہ آسکیں گے۔اللہ تعالیٰ نے خلافت کے اس مخالف کو پہلے جذام سے پکڑا۔پھر اس پر خان گرا اور وہ دنیا سے کوچ کر گیا۔حضرت مولانا صاحب علیل ہی تھے کہ حضرت خلیفتہ المسیح ثانی کی طرف سے حکم پہنچا کہ