اصحاب احمد (جلد 8) — Page 21
مولا نا نور الدین صاحب آپ کو طب پڑھنے کی ترغیب دلاتے اور فرماتے کہ آپ ذہین ہیں۔آپ کو جلد پڑھا دوں گا لیکن مولوی صاحب اس کی طرف رجحان نہیں پاتے کئی سال بعد ۱۹۰۸ء میں حضرت مولانا نورالدین صاحب ایک طب کی کتاب مہمان خانہ میں لائے اور فرمایا کہ اب تو میں پڑھا کر ہی چھوڑوں گا۔اس پر مولوی صاحب نے سبقاً طب احسانی، میزان الطب حضرت مولوی صاحب سے پڑھیں۔جس سے شوق پیدا ہو گیا۔اس دفعہ نصف سال سے زیادہ حضرت را جیکی صاحب کو قادیان میں قیام کا موقع ملا۔پھر طب کا شوق پیدا ہو جانے کے باعث آپ نے اپنے طور پر بیسیوں کتب پڑھیں بلکہ علم جفر، علم کیمیا، تفاسیر، احادیث، فقہ اور تصوف کے متعلق بھی ہزار ہا کتب آپ نے مطالعہ کیں اور ان کے متعلق مسائل آپ پر کھل گئے۔ایک دفعہ ایک سفر میں ایک دوست نے ایک نہایت خوبصورت عصا تحفہ دیا۔حضرت خلیفہ اول نے بوقت ملاقات تین دفعہ دریافت کیا۔کیا یہ آپ کا ہے۔مولوی صاحب نے بطور تحفہ پیش کر دیا۔حضرت خلیفہ اول نے از راہ کرم قبول کر کے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ آپ کو اس کے عوض میں موسیٰ کا عصا عطا فرمائے۔حضرت خلیفہ اول نے آپ کو لاہور میں مقرر فرمایا۔آپ نے حضور کی اجازت سے استخارہ کیا تو دیکھا کہ آپ لاہور گئے ہیں اور جماعت کی خدمت میں مصروف ہیں۔اچانک خواجہ کمال الدین صاحب اور ان کے بھائی خواجہ جمال الدین صاحب نے جماعت کی دعوت کی۔معلوم ہوا کہ عبداللہ نام ایک بزرگ بھائی کا گوشت پکایا ہے۔مولوی صاحب نے یہ کہہ کر کھانے سے انکار کر دیا کہ انسان کا گوشت کھانا حرام ہے۔چنانچہ اور بھی بہت سے لوگوں نے انکار کر دیا۔اس رویا پر حضرت خلیفہ اول نے فرمایا کہ اسی لئے تو ہم آپ کو لاہور بھیج رہے ہیں۔چنانچہ وہاں چند دنوں بعد صدرانجمن کے لاہوری ممبروں نے مولا نا صاحب کو علیحدگی میں کہا کہ الوصیت میں کہاں لکھا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعد صدرانجمن کے علاوہ بھی کوئی