اصحاب احمد (جلد 8)

by Other Authors

Page 150 of 185

اصحاب احمد (جلد 8) — Page 150

۱۵۱ حضور غالبا ۲۸ را پریل کو دمشق ، وہاں سے روم پھر جنیوا اور وہاں سے ۸ مئی کو زیورچ پہنچے جہاں حضور نے معائنہ اور علاج کروانا تھا۔حضور نے دمشق سے ہی میرے نام ارشاد بھجوادیا کہ ۸ مئی تک زیورچ پہنچ جاؤں میں 9 کو پہنچ سکا۔وہاں حضور چار ہفتے کے قیام کے بعد دیگر ممالک یورپ میں سے ہوتے ہوئے ۲ جولائی کولنڈن پہنچے۔حضور نیورمبرگ جرمنی میں دو تین روز کے لئے قیام پذیر تھے کہ ایک شب حضور کی طبیعت اچانک خراب ہوگئی۔اس وقت میں مردانہ پارٹی میں بیٹھا شام کا کھانا کھانے لگا تھا۔جس پارٹی میں ڈاکٹر مرزا منور احمد صاحب اور سر محمد ظفر اللہ خاں صاحب اور چوہدری عبد اللطیف صاحب مبلغ جرمنی بھی تھے۔ابھی کھانا شروع ہی ہوا تھا کہ حضور نے خاکسار کو اپنے کمرہ میں جس میں حضور اور سیدہ ام متین اور سیدہ بشری بیگم بھی تھیں بلالیا اور اپنی گھبراہٹ اور بے چینی کی شکایت کی۔جب میں دیکھ چکا اور دوائی دے دی تو حضور نے فرمایا کہ آپ اسی کمرہ میں میرے پاس ٹھہریں اور میرا بستر فرش پر لگوا دیا اور دونوں خواتین استراحت کرنے لگیں۔چونکہ میں نے کھانا چکھا تک نہ تھا اس لئے بیرہ دو دفعہ مجھے بلانے آیا مگر میں حضور کو چھوڑ کر جانہ سکتا تھا۔آخر میں نے بیرہ سے کہدیا کہ میرے لئے کچھ کھانا برآمدہ میں رکھ دو اگر موقع ملا اور حضور کو نیند آ گئی تو کچھ کھالوں گا اور نہ خیر۔چنانچہ بارہ بجے رات کے قریب مجھے کھانا کھانے کا موقع مل گیا۔جبکہ حضور کو نیند آ گئی میری تمام رات پاس ہی سوتے جاگتے گذری۔اس وقت مجھے سمجھ آیا کہ حضور مجھے کیوں اس قدر اصرار کے ساتھ سفر پر لائے تھے۔لندن کے قیام کے دنوں میں حضور کا طبی معائنہ ڈاکٹر سر چارلس سائمنڈ نے کیا اور انہوں نے یہ بتلایا کہ حضور کو Thrombosis of Carroted Artery ہوا جس سے حضور کو سخت گھبراہٹ ہوئی لیکن خاکسار نے واضح دلائل سے ثابت کیا کہ یہ تشخیص محض قیاس ہے یقینی نہیں جس سے حضور کو ایک گونہ تسلی ہوگئی۔انہی ایام قیام لنڈن میں حضور کی رخسار کی ہڈیوں کے اندر درد کی تکلیف پیدا ہوگئی۔ناک اور گلے کے ماہر چوٹی کے ڈاکٹر نے ایکسرے کے نتیجہ کے پیش نظر ہڈی کے اندر کے خلا سے سوا